" کبھی سوچ بھی لیا کرو "
انسان کی عظمت اسکے اخلاق اور اقدار سے پہچانی جاتی ہے ۔ یہ مصرعہ ہمارے ارد گرد اکثر دھرایا جاتا کہ انسان میں حیا اور اخلاق اسکی دولت ہوتی ہے ۔ یہ پیسہ تو کنجروں کے پاس بھی بہت ہوتا ہے ۔ کنجر کی تعریف کی ضرورت نہیں ، بس یوں سمجھ لینا کافی ہے کہ کنجر کسی قبیلے یا خاندان کا نام نہیں ، یہ ایک قماش ہے ، جسے جو بھی اختیار کر لے ۔ اس قماش کے لوگوں سے شرفاء اکثر کتراتے ہیں ۔ کیونکہ انکو نہ اپنی عزت سے کوئی واسطہ ہوتا ہے نہ دوسرے کی عزت کا خیال ۔ یہ ایسی گندگی ہوتی ہے جو جس پہ بھی پڑے گی بدبو دار کرے گی ۔
آج اس گندگی کا نام سیاست ہے ۔ جس میں کسی کی عزت ، کسی کی بہن یا بیٹی کی چادر محفوظ نہیں رہ گئی ۔ وہ سیاستدان جن کو ہم اپنا رہنماء مان لیتے ہیں ، وہ گفتگو میں ، کردار میں ، تہذیب میں ، غیرت میں روز مرہ کے معاملات میں ، لاکھوں کے جلسوں میں مخالفین کی بیٹیوں کی ایسی کردار کشی کرتے ہیں ، کہ کنجر بھی اتنے بیہودہ نہیں ھوا کرتے تھے ۔
گالم گلوچ کونسا طریقہ ہے ، جس پر شاباشی دی جائے ۔ حیرت ہے سیاسی کارکنوں کے ، انہوں نے اپنا وقار کیوں داوٴ پہ لگا دیا ۔ کب کسی جیتنے والے نے نعرے لگانے والوں کے دکھ بانٹے ہیں ۔ کب ان سیاسی پنڈتوں نے کسی غریب کی بیٹی کے ہاتھ پیلے کئے ہیں ۔ کب کسی سیاسی پگڑی والے نے کسی کی عزت پر اپنی چادر ڈالی ہے ۔ کب کسی لیڈر نے کسی غریب ووٹر کا دروازہ کھٹکھٹا کے پوچھا ہے کہ اہل خانہ بھوکے تو نہیں سو گئے ۔ ایک آٹے کی بوری اور ایک گھی کے ڈبے کی دان کر کے فوٹو سیشن منانے والوں نے ، کبھی نہیں سوچا کہ یہ آٹا ، یہ گھی تو چند دنوں کا راشن ہے ، بعد میں کیا ہو گا ۔
یہ مکار لوگ ، تمہاری حماقت سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ کبھی سوچ بھی لیا کرو ، سر پہ سیاست کا کفن باندھنے سے پہلے ۔ کبھی سوچ بھی لیا کرو سیاستدانوں کی پرستش سے پہلے ، کہ یہ کس کردار ، کس قماش کے لوگ ہیں ۔
ازاد ھاشمی
Friday, 25 August 2017
کبھی سوچ بھی لیا کروب
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment