Friday, 25 August 2017

سیاسی تماشے

" سیاسی تماشے "
کیا عجیب سا نہیں لگتا کہ ہمارے سیاسی رہنماء کس ڈگر پر چل رہے ہیں ۔ ایک طاقت کے مظاہرے کیلئے دھرنا دیتا ہے ، ایک جلوس پہ جلوس نکالتا ہے ، ایک طویل ریلی نکال کر باور کرواتا ہے کہ عدالتیں تو للو ہیں ، انکی مت سنو ۔ ایک ملک سے بیزار تھا اور جب دل چاہتا ہے اپنی موجودگی کا احساس دلانے آجاتا ہے ۔ 
یہ سول سرونٹ بھی کیا کریں ، انہی میں سے کسی نہ کسی کی آشیر باد سے سیٹوں کے مزے لوٹ رہے ہیں ۔ بیچارے پولیس والے بھی کیا کریں ، بڑے صاحب کا حکم  ہے کہ عوام کو سڑک پر لانے کیلئے گلو بٹ کی ضرورت تو رہتی ہے نا۔  بے بس سپہ سالار کی بھی مجبوری ہے کہ خاموشی سے تماشا دیکھے ۔ آخر اسے بھی تو کئی سنئیرز کو چھلانگ کر لایا گیا ہے ۔
کیا لگتا ہے کہ جس مخلوق کو عوام کہا جاتا ہے ، اسے سمجھ آ جائے گی کہ کون غلط ہے اور کون ٹھیک ۔ وہ ایک ٹی وی کھولیں گے تو ایک دانشور اس ریلی کو حکم ربی کہہ رہا ہو گا ، دوسرے ٹی وی پر اسی کو شیطان کی سر پرستی سے تشبیہہ دی جا رہی ہو گی ۔ کیسے سمجھ آئے گی کہ سچ کیا ہے ۔
کیا ابھی کوئی شک باقی رہ گیا کہ ہم سحر زدہ قوم ہیں ۔ بس جب بھی کوئی سامری آئے گا ، ہم اسی کی تقلید میں نکل کھڑے ہونگے ۔ کبھی نہیں سوچیں گے کہ ان سامریوں کی ڈور کون ہلاتا ہے ۔ جو بھی تماشا ہو گا ، وہی دیکھنے لگیں گے ۔
کیا دلیل باقی رہ گئی کہ برائی  کو جتانے والے ہم نہیں  ہیں ۔  یہ عدالتیں ، یہ اینٹلیجنس ادارے ، یہ محافظ تو سب کے سب مٹی کے مادھو ہیں ۔ پتلیاں ہیں ، ہر آنے والے مداری کے لئے ناچیں گی ۔ یہ ہی انکے فرائض ہیں ، یہی دین یہی دھرم ۔ کون کہتا ہے کہ انہوں نے وطن کی مٹی کے تحفظ کا حلف اٹھایا ۔ انہیں تو کرسی پر بیٹھے کو سلیوٹ کرنے کی عادت ہے ۔ وہ چور ہو یا سادھ ۔
کوئی بتا سکتا ہے کہ ان سیاسی تماشوں کا انجام کیا ہو گا ۔
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment