" جمہوریت سے عقیدت "
یہودی ، عیسائی اور دیگر مذاہب اس الجھن میں تھے کہ کس طرح مسلمانوں کو ایسی راہ پر لگائیں کہ وہ اپنا راستہ بھول جائیں ۔ کس طرز حکومت پہ قائل کریں کہ گمراہ ، منکر ، بد کردار حکمران ان کی قیادت کریں ۔ انکے اندر کونسی تخریب کا بیج بوئیں کہ یہ ٹکڑے ٹکرے ہو جائیں ۔
اپنے ان تجربات کا آغاز انہوں نے تفرقہ بازی سے کیا ، اس پر اکثریت متفق ہے کہ انہوں نے مذہب کا پیرہن پہنا کر بہت سارے لوگوں کو مسلمانوں میں داخل کیا ، تفرقات کا بیج بویا ، چھوٹے چھوٹے مسائل کو ہوا دی اور مسلمان گروہ در گروہ ہو گئے ۔ ہمارے علمی محققین کو اس ریسرچ پہ لگا دیا کہ روز مرہ زندگی میں سونا کیسے ہے ، ہاتھ کیسے دہونے ہیں ، غسل جنابت کیسے کرنا ہے ۔ وغیرہ وغیرہ ۔
بھلا دیا کہ قران کو ثواب کیلئے ہی نہیں پڑھنا بلکہ طرز زندگی سیکھنے کے لئے پڑھنا ہے ۔ ان تمام اسلام دشمن مذاہب کا تیر نہایت نشانے پر لگا ۔ ہمیں یقین ہو گیا کہ قران کو سمجھنے کی کوشش کی تو بہک جائیں گے ۔ اب ہمیں یہ سکھایا جانے لگا کہ غیر مسلم مفکرین نے کیا کیا کہا ۔ کبھی ارسطو ، کبھی سقراط ، کبھی افلاطون حتی کہ ماضی قریب کئی غیر مسلم حکمرانوں کے اقوال از بر کرا دئیے ۔ آہستہ آہستہ یہ زہر ہماری رگوں میں اتر گیا ۔ پھر جس جس عمل سے اللہ نے روکا اسی اسی عمل کو اپنی زندگی کا حصہ بنا ڈالا ۔ جیسے سود ۔
اب اگلا مرحلہ جمہوریت سے شروع ہوتا ہے اور رفتہ رفتہ پورے مسلمانوں کو اسکا تابع کرنے کی کامیاب تحریک جاری ہے ۔ جو ذرہ برابر رکاوٹ بنتا ہے اسے عبرت کا نشان بنا دیا جاتا ہے ، جیسے لیبیا ، عراق اور اب اگلا بیج سعودیہ میں لگانے کی تیاری ہے ۔
آپ نے کبھی غور کیا کہ جمہوریت ہماری عقیدت بن گئی ہے ، اسکے لئے مرنے والے کو شہید کہا جاتا ہے ۔ اسلام کا نظام مبہم اور ناقابل عمل سمجھا جا رہا ہے ۔ حتی کہ مذہب کے لبادے میں جمہوریت کے ایجنٹ نہایت منظم طریقے سے جمہوریت کو فعال کر رہے ہیں ۔ خوف آ رہا ہے کہ بہت جلد جمہوریت کو ایک مذہب سمجھا جانے لگے گا ۔ ہمارے بچوں کو جمہوریت کے ثمرات پر پڑھانا شروع کر دیا جائے گا ۔
ارباب علم و دانش کو پوری توجہ سے اس عقیدت کو روکنے کی سعی کرنا ہو گی ۔
ازاد ھاشمی
Friday, 25 August 2017
جمہوریت سے عقیدت
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment