Friday, 25 August 2017

قران پاک کی بلاغت

" قران پاک کی بلاغت "
علیم و کریم کا یہ دعویٰ کہ اس عظیم کتاب میں کوئی " ریب " نہیں ۔ اور اس سے ہدایت کا ثمر تقویٰ سے مربوط کر دینا ۔ قران کا یہی حسن ہے کہ بیشتر اس سے کہ کوئی سوال قاری کے ذہن پر بوجھ بنے ۔ فوری جواب بھی مل جاتا ہے ۔ بشرطیکہ قران کو ایسے پڑھا جائے  جیسے اسکا حق ہے ۔ محض رسم پوری کرنے کی غرض سے پڑھا جانے والا قران پیغام ربی کے مفہوم کو سمجھنے کیلئے کافی نہیں ۔
اللہ نے فرمایا کہ قران سے ہدایت کا وعدہ ان لوگوں کے ساتھ ہے ، جو متقی ہیں ۔ یہاں تقوے کی وہ شرائط بھی کھول دیں ، جو ہدایت کیلئے قطعی ضروری ہیں ۔
پہلی شرط یہ ہے کہ ایمان لایا جائے ، ان تمام حقائق پر جو ہماری سوچ ،ادراک ، حواس یا عقل کی پہنچ سے بلند ہیں ۔ اسلئے ایمان اور پختہ یقین کے ساتھ مانا جائے ، کہ جس ہستی کے وسیلہ سے یہ کتاب ہمیں ملی ، اس ہستی کا تقدس ، سچائی قطعی شک و شبہ سے پاک ہے ۔ ان سوالوں کے کھوج  میں لگ جانا ، جن تک عقل و فہم کی رسائی ہی نہ ہو ۔ ایسی ریسرچ تقویٰ کے اصول و ضوابط سے ہم آہنگ ہی نہیں ۔ ایسے  ہر غیب کو  جسکا اللہ کی کتاب کہے  ،  ایمان لے آنا تقوی ہے ۔ یہ پہلی شرط کسقدر بلیغ ہے ، کہ قران کی جامعیت پر ہر سوال مہمل ہو جاتا ہے ۔  اللہ کی ذات کو دیکھنے کی ضد ، فرشتوں کو دیکھنے کی بات ، قیامت کے تعین کا وقت ، جنت اور دوزخ کے مشاہدات کا تقاضا وغیرہ وغیرہ ، یعنی جس جس بات کو اللہ کی ذات نے مخفی رکھا ، اسکی تحقیق میں لگ جانا کہ کیوں مخفی رکھا ، یا ایسی خود ساختہ کہانیوں کو رواج دے ڈالنا ، غیب پر ایمان اور یقین نہ رکھنا ٹھہرتا ہے ۔ یہاں ہدایت اور گمراہی کی راہیں الگ الگ ہو جاتی ہیں ۔ جب قران نے شرط لگا دی ، تو اگلی شرط اسی وقت سمجھ آئے گی ، جب اس شرط پر غیر متزلزل ایمان ہو گا ۔ یہ معراج ہے اس قران پاک کی کہ ہر معاملہ بتدریج حل ہوتا چلا جاتا ہے ۔ بس لازم ہے کہ قران کو غور سے پڑھا جائے اور اس پر اپنی فکر کو مرکوز کر لیا جائے ۔
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment