Friday, 25 August 2017

معصوم پولیس والے

" معصوم پولیس والے کیا کریں  "
یہ نہ تو تنقید ہے ، نہ تفریح کی کوشش ۔ چند تلخ حقائق ہیں ، جو ہم جیسی تمام قوموں کے نصیب میں لکھے جاتے ہیں ۔ چند ماہ پہلے ایک اعلیٰ پولیس افسر اپنے لخت جگر کی بے جا حراست پر اپنے پیر صاحب سے دعا کیلئے دوزانو بیٹھے تھے ۔ وہ پولیس کیا کر سکتی ہے اور کیا کرے گی ، جسکا اعلیٰ افسر اسقدر بے یار و مددگار ہو گا ۔ جو اپنے بچے کی مدد نہیں کر سکتا اور سیاسی غنڈوں کے سامنے بے بسی کے عالم میں ہے ، وہ عوام  کی کیا حفاظت کرے گا ۔
آج ایک نوجوان کی لاش ، گلے میں پھندے کے ساتھ سڑک پر لٹکتی ہوئی فیس بک پر فریاد کر رہی ہے ، کہ ہے کوئی جو قوم کی حفاظت کیلئے آگے بڑھے ۔ کوئی اسمبلی کا ممبر ، کوئی وکیل ، کوئی جج ، کوئی جرنیل ، کوئی ایک ، جس کے دل میں اپنے حلف کا پاس ہو ۔ جو اپنی طاقت کو عملی طور پر مظلوموں کیلئے استعمال کرے ۔ کوئی نہیں ۔ سب قبرستان میں مردہ پڑے ہیں ۔ سب ظلم کے ساتھ کندھا ملائے کھڑے ہیں ۔ پولیس تو وہ بے بس محکمہ ہے ، جس کی بھرتی کے وقت رشوت لیکر ، پہلا سبق یہی دیا جاتا ہے کہ رشوت تمہارا حق ہے ۔ ان بے چاروں کو تو دو ڈاکو بکریوں کی طرح ہانک کر لے جاتے ہیں ۔ جیسا ابھی تازہ تازہ واقعہ ہوا ۔ محکمہ پولیس تو مٹی  کا مادھو نظر آتا ہے اور ایک وڈیرہ سودے بازی کر کے ان سپوتوں  کو واپس لاتا ہے ۔ اگر احساس زندہ ہو پولیس ہیڈ کی جگہ وڈیرہ بہتر محافظ ہے ۔  شرم کا احساس زندہ ہوتا تو پولیس کے پورے نظام کو شرم آجاتی ۔ 
ہمارا حفاظتی حصار اس قدر کمزور ہے کہ ایک سابقہ وزیر اعظم کا بیٹا اغوا ہو گیا ، ایک سابقہ گورنر پنجاب کا بیٹا اغوا ہو گیا ، ان دونوں کو سہولت کار چھڑاتے ہیں ، تو ایسے میں کسی کو سڑک کے کنارے پھانسی پر لٹکتا دیکھ کر تعجب نہیں رہا ۔ فرائض سے غفلت کی وجہ سے عدم تحفظ کا آسیب کسی بھی گھر میں گھسنے لگا ہے ۔ اللہ رحم کرے ، اللہ ہماری حفاظت کرے ۔ اب یہ دعائیں بھی قبولیت نہیں پاتیں ۔ کسی کے پاس جواب نہیں کہ کیوں ؟
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment