" ٹوٹا ہوا کھلونا "
معصوم سا حسرتوں اور امیدوں کے تاثرات سے منقش چہرہ ۔ وہ معصوم سی گڑیا ، زندگی اور موت کے درمیان چند سانسوں کی مسافت پر کھڑی تھی ۔ ڈاکٹر اس بات پر قائم تھے کہ اگر اس معصوم کو چند ماہ پہلے علاج کی سہولت مل جاتی تو زندگی اسکے ساتھ تھی ۔ ماں سرہانے بیٹھی کسی معجزے کی منتظر ، بار بار بیٹی کی آنکھوں میں جھانکتی اور سانسیں لیتا ہوا بت بن جاتی ۔
جس بیٹی کے ہاتھوں پہ مہندی ، ماتھے پہ ٹیکا اور عروسی لباس میں ملبوس دیکھنے خواب وہ دیکھا کرتی تھی ۔ سفید کفن کا خیال آتے ہی مر جاتی ، پھر ایک امید کہ شاید اللہ اسکی دعا سن لے اور اسکی بیٹی اسے واپس مل جائے ۔ چند لمحوں کیلئے پھر سے جی اٹھتی ۔
پچھلے چند دنوں میں وہ کئی بار مر چکی تھی اور کئی بار جی چکی ۔ اسے یاد آتا تھا کہ اس نے اور اسکے بد نصیب شوہر نے بیٹی کیلئے ہر دروازہ کھٹکھٹایا ، کہ شاید کسی دولتمند کی تجوری سے چند سکے ، مل جائیں اور انکی بیٹی بچ جائے ۔ مگر جس دولت پر سانپ بیٹھا ہو وہ صرف کوئی ڈاکو ہی لے سکتا ہے ۔ ضرورت مند نہیں ۔
" ماں ! ابا کہاں ہے "
" بیٹا ! تیرے لئے کھلونا لینے گیا ہے ۔ بس آنے ہی والا ہے "
" ماں ! دوائی کیوں نہیں ،کھلونا تو تھا میرے پاس " وہ اپنے
سرہانے پڑے ہوئے کھلونے کو ، جو ٹوٹ چکا تھا، ماں کو دکھاتے ہوئے بولی ۔ ماں کیا کہتی کہ وہ کس کس در پہ دستک دے رہا ہو گا ۔ باپ کیا جانے کہ وہ شہر کے بیچ اکیلا ہے ۔ جہاں کسی کو فرصت ہی نہیں کہ کسی کے غم بانٹے ۔ جہاں خود غرضی نے اپنے مضبوط پنجے ، ہر کسی کے دل میں گاڑھ رکھے ہوں ، وہاں کسی کی بیٹی مر جائے گی ، تو کسی کا دل نہیں پسیجے گا ۔ وہ جب خالی ہاتھ واپس لوٹا ، تو بیٹی کا ٹوٹا ہو کھلونا زمین پر پڑا تھا ۔ وہ باپ کا انتظار کرتے کرتے ، اپنے آخری سفر پر روانہ ہو چکی تھی ۔
ازاد ھاشمی
Friday, 25 August 2017
ٹوٹا ہوا کھلونا
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment