" سیاسی گندگی "
یہ جو دھما چوکڑی ، گالم گلوچ ، پردہ دری اور کردار کشی کا رحجان ہے ، کیا یہ ہماری تہذیب تھی ۔ کیا ہمیں اس نہج تک پہنچ جانا چاہئے تھا ۔
یہ سیاسی گندگی ان دس بارہ سالوں کی نہیں ، بلکہ تھوڑی سی انگریز نے پنیری لگا دی تھی ، یہ وہ درخت اور انکی شاخیں ہیں ۔ کچھ پودے ہر دور کے حکمران ساتھ لگاتے رہے ۔
کچھ مصلحتوں کے باعث لگائے گئے ۔ اور آج پورے ملک کی گندگی قانون ساز ہے ۔ وہ جن کا کردار پوشیدہ تھا ، اب سر عام ہے ۔ پتہ چل رہا ہے کہ بہت سارے معتبر اخلاقی دیوالیہ ہیں ۔ جن کو اخلاقیات کی ابجد نہیں آتی وہ دنیا میں پاک سر زمین کی نمائیندگی کر رہے ہیں ۔
جو ملک کے اثاثوں کے نگہبان تھے ، انہوں نے ملک کو دونوں ھاتھوں سے لوٹ رکھا ہے ۔ برا ہو ایسی مصلحت ہے جو نہ جج کو لکھنے دیتی ہے اور نہ محافظ کو مجرم پکڑنے دیتی ہے ۔ برا ہو ایسی مصلحت کا جو مذہب کی تبلیغ والوں کو زانی ، راشی ، قاتل اور شرابی حکمرانوں کو قبول کرنے پر مجبور کئے بیٹھی ہے ۔
تف ہے ایسی مصلحت پر ، جس بنا پر ہم برادری ، مفادات اور سیاسی وابستگی پر ووٹ کا استعمال کرنے پر مجبور ہیں ۔
ہمیں سمجھ ہی نہیں آ رہا کہ اس گندگی کی جڑ کہاں ہے اور کیسے کٹے گی ۔
سیاست میں گھروں سے آزادی لئے خواتین ، جس رحجان کو پروان چڑھا رہی ہیں ، کل یہ رحجان ہماری بہو ، بیٹیوں کی رغبت بن گیا تو شرفاء کہاں کھڑے ہونگے ۔
کیا یہ تماشا گر اس قابل ہیں کہ انکے لئے دل میں نرم کونا رکھا جائے ۔
اس گندگی کو منہ پہ ملنے سے کیا ملے گا ۔
ازاد ھاشمی
Friday, 25 August 2017
سیاسی گندگی
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment