اس سے کیا فرق پڑتا ہے , کہ کون اردو بولتا ہے کون پنجابی , کون سندھی
بولتا ہے کون بلوچی , کون پشتو بولتا ہے کون سرائیکی - یوم قرارداد پاکستان
پہ ہم نہ سندھی تھے نہ پنجابی , نہ بنگالی تھے نہ مہاجر , نہ بلوچ تھے نہ
پٹھان - ہم سب کی ایک لگن تھی , ایک سوچ تھی , ایک مشن تھا , ایک خواب تھا ,
ایک ولولہ تھا , ایک تحریک تھی - ہم ایک قوم تھے اور اس قوم کا نام تھا
مسلمان - ہم اپنی پہچان چاہتے تھے , اپنے اصول چاہتے تھے , اپنا نظام چاہتے
تھے , اپنے فیصلے خود کرنا چاہتے تھے -
پھر دنیا نے دیکھا کہ صرف سات سال میں ہم نے دنیا کے نقشے پہ پاک وطن کی لکیریں کھینچ دیں - سب ایک تھے , غریب اور امیر , نواب اور تانگہ بان ایک ساتھ متحرک تھے , جاگیردار اور کسان ایک جھنڈا اٹھاے پھر رہے تھے -
یہ لگن سامراج کے سینے میں اٹھنے والا وہ درد تھا , جس کا علاج وہ ڈھونڈھنے میں لگے رہے - اور آج انہوں نے یہ لگن چھین لی - آج ہم , ہمارے ادارے , ہمارے رہنما , ہمارے افسران , ہمارے پالیسی بنانے والے , سب کے سب , لسانی , علاقائی , مذہبی گروپوں کا شکار ہو گئے ہیں - امتیازی سلوک ہر شعبے کی نا قابل علاج بیماری بن گئی ہے -
ہمیں ایک بار پھر سے ایک قرار داد کی ضرورت ہے - ہمیں ایک بار پھر سے ایک عزم دہرانا ہے - ہمیں ایک بار پھر دنیا کو دکھانا ہے -
" ہم سب ایک ہیں , ہم سب آزاد ہیں , ہم سب زندہ قوم کے افراد ہیں "
ہمیں آج پھر عہد کرنا ہے - اخوت کا , یکجہتی کا , امن کا اور اس نظام کا جو ہماری منزل تھا , جو ہمارا جنوں تھا , جو ہماری امنگ تھا - کل
ہماری جنگ سامراج سے تھی, آزادی کی جنگ - آج بھی ہماری ہے , سامراج کے گماشتوں سے, وطن فروشوں سے - یہ جنگ بھی ہمیں اسی عزم سے لڑنی ہے -
آ ئیے عہد کریں -
شکریہ
آزاد ہاشمی
- یہ وہ تڑپ تھی , جس کے لئے ہم نے ہر قربانی کی ٹھان لی - اور ہر طاقتور کے سامنے کھڑے ہونے کا مصمم ارادہ کر لیا -
پھر دنیا نے دیکھا کہ صرف سات سال میں ہم نے دنیا کے نقشے پہ پاک وطن کی لکیریں کھینچ دیں - سب ایک تھے , غریب اور امیر , نواب اور تانگہ بان ایک ساتھ متحرک تھے , جاگیردار اور کسان ایک جھنڈا اٹھاے پھر رہے تھے -
یہ لگن سامراج کے سینے میں اٹھنے والا وہ درد تھا , جس کا علاج وہ ڈھونڈھنے میں لگے رہے - اور آج انہوں نے یہ لگن چھین لی - آج ہم , ہمارے ادارے , ہمارے رہنما , ہمارے افسران , ہمارے پالیسی بنانے والے , سب کے سب , لسانی , علاقائی , مذہبی گروپوں کا شکار ہو گئے ہیں - امتیازی سلوک ہر شعبے کی نا قابل علاج بیماری بن گئی ہے -
ہمیں ایک بار پھر سے ایک قرار داد کی ضرورت ہے - ہمیں ایک بار پھر سے ایک عزم دہرانا ہے - ہمیں ایک بار پھر دنیا کو دکھانا ہے -
" ہم سب ایک ہیں , ہم سب آزاد ہیں , ہم سب زندہ قوم کے افراد ہیں "
ہمیں آج پھر عہد کرنا ہے - اخوت کا , یکجہتی کا , امن کا اور اس نظام کا جو ہماری منزل تھا , جو ہمارا جنوں تھا , جو ہماری امنگ تھا - کل
ہماری جنگ سامراج سے تھی, آزادی کی جنگ - آج بھی ہماری ہے , سامراج کے گماشتوں سے, وطن فروشوں سے - یہ جنگ بھی ہمیں اسی عزم سے لڑنی ہے -
آ ئیے عہد کریں -
شکریہ
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment