" سنت رسول صل اللہ علیہ وسلم "
اس پر کوئی دوسری رائے نہیں کہ سنت رسول کو اختیار کرنا ہر مسلمان کیلئے لازم ہے ۔ داڑھی کا رکھنا بھی مسنون ہے اور مسلمان کی واضع شناخت بھی ۔ لباس میں وہی انداز اپنانا جو آپ ص کا تھا ایک معراج ہے ۔ مگر ہمارے علماء نے نہ سنت رسول کو اپنے اوپر لاگو کیا ، اور نہ ہی اگاہی ہونے دی کہ سنت کا اصل مفہوم و مقصود کیا ہے ۔ اگر ہم آج بھی سنت رسول ص سے مکمل اگاہ ہو جائیں اور اسے اپنے اوپر نافذ کر لیں تو یہ تمام دنیاوی جھنجھٹ از خود کنارہ کر لیں گے ۔
لباس میں سادگی کو ہی لے لیں ، ہمارے وہ سب لوگ جو لباس میں اسراف کرتے ہیں ، محض دکھاوے کی خاطر ، ان میں بیشتر علماء بھی شامل ہیں ۔ اگر ایک داڑھی والی سنت ادا کر رہے ہیں تو ایک عملی سنت سے پہلو تہی بھی کر رہے ہیں ، حالانکہ یہ دوسری سنت زیادہ اہم تھی ۔ میری ناقص اور محدود سوچ کے مطابق ، سنت نبوی کے دو پہلو ہیں ، ایک کا اطلاق ذات تک محدود ہے ، جیسے داڑھی رکھنا ، سادگی اختیار کرنا ، اٹھنے بیٹھنے ، وضع قطع ، لباس اور خوراک وغیرہ ۔ دوسرا پہلو ، جو اہمیت کے اعتبار سے زیادہ اہم بھی ہے اور امت مسلمہ کی اصل ضرورت بھی ۔ جسکا تعلق معاشرتی زندگی سے ہے ۔ ہم نے ہر وہ سنت محو کر دی ، جس سے اصل اسلامی تہذیب فروغ پاتی ۔ اور آج ہم ایک فلاحی معاشرہ ہوتے ۔ گویا اسوہ حسنہ اصل سنت ہے ۔ اور ہم نے اسے اپنے اوپر لاگو ہی نہیں کیا ۔ کتنے لوگ ہیں جو ایک داڑھی کی سنت کا احترام کئے ہوتے ہیں مگر ہر آسائش تعیش سے لطف اندوز ہو رہے ہوتے ہیں ۔ کتنے لوگ اس دنیا میں جائداد کے انبار لگانے میں لگے رہتے ہیں ، بھول جاتے ہیں کہ زائد از ضرورت وسائل پر دوسرے مستحق بھائی کا حق ہے اور یہی مسنون ہے ۔ کتنے لوگ فرض عبادت کے ساتھ سوچتے ہیں کہ کہیں اسکا ہمسایہ بھوکا تو نہیں سو گیا ۔ کتنے لوگ یتیم کے سر پر ہاتھ رکھتے ہیں ۔ سنت تو دوسروں کیلئے امن کی ضمانت ہے ۔ کتنے سنت کا اہتمام کرنے والے دوسروں کیلئے عذاب کا سامان بنا رہے ہیں ۔ سنت تو اپنے دین کے دشمن سے روداری ہے ، کتنے ہیں جنہوں نے مسالک پر دشمنی کی دیوار کھڑی کر رکھی ہے ۔
ہم غور ہی نہیں کرتے کہ ایک سنت اپنا کر بہت ساری سنتوں کو نظر انداز کر دینا ، سنت نبوی سے عقیدت نہیں مذاق ہے ۔ اس سے زیادہ اچھا کیا ہو گا کہ ہم سنت کے اصل مفہوم کو سمجھ بھی لیں اور اپنا بھی لیں
شکریہ
آزاد ہاشمی ۔
اس پر کوئی دوسری رائے نہیں کہ سنت رسول کو اختیار کرنا ہر مسلمان کیلئے لازم ہے ۔ داڑھی کا رکھنا بھی مسنون ہے اور مسلمان کی واضع شناخت بھی ۔ لباس میں وہی انداز اپنانا جو آپ ص کا تھا ایک معراج ہے ۔ مگر ہمارے علماء نے نہ سنت رسول کو اپنے اوپر لاگو کیا ، اور نہ ہی اگاہی ہونے دی کہ سنت کا اصل مفہوم و مقصود کیا ہے ۔ اگر ہم آج بھی سنت رسول ص سے مکمل اگاہ ہو جائیں اور اسے اپنے اوپر نافذ کر لیں تو یہ تمام دنیاوی جھنجھٹ از خود کنارہ کر لیں گے ۔
لباس میں سادگی کو ہی لے لیں ، ہمارے وہ سب لوگ جو لباس میں اسراف کرتے ہیں ، محض دکھاوے کی خاطر ، ان میں بیشتر علماء بھی شامل ہیں ۔ اگر ایک داڑھی والی سنت ادا کر رہے ہیں تو ایک عملی سنت سے پہلو تہی بھی کر رہے ہیں ، حالانکہ یہ دوسری سنت زیادہ اہم تھی ۔ میری ناقص اور محدود سوچ کے مطابق ، سنت نبوی کے دو پہلو ہیں ، ایک کا اطلاق ذات تک محدود ہے ، جیسے داڑھی رکھنا ، سادگی اختیار کرنا ، اٹھنے بیٹھنے ، وضع قطع ، لباس اور خوراک وغیرہ ۔ دوسرا پہلو ، جو اہمیت کے اعتبار سے زیادہ اہم بھی ہے اور امت مسلمہ کی اصل ضرورت بھی ۔ جسکا تعلق معاشرتی زندگی سے ہے ۔ ہم نے ہر وہ سنت محو کر دی ، جس سے اصل اسلامی تہذیب فروغ پاتی ۔ اور آج ہم ایک فلاحی معاشرہ ہوتے ۔ گویا اسوہ حسنہ اصل سنت ہے ۔ اور ہم نے اسے اپنے اوپر لاگو ہی نہیں کیا ۔ کتنے لوگ ہیں جو ایک داڑھی کی سنت کا احترام کئے ہوتے ہیں مگر ہر آسائش تعیش سے لطف اندوز ہو رہے ہوتے ہیں ۔ کتنے لوگ اس دنیا میں جائداد کے انبار لگانے میں لگے رہتے ہیں ، بھول جاتے ہیں کہ زائد از ضرورت وسائل پر دوسرے مستحق بھائی کا حق ہے اور یہی مسنون ہے ۔ کتنے لوگ فرض عبادت کے ساتھ سوچتے ہیں کہ کہیں اسکا ہمسایہ بھوکا تو نہیں سو گیا ۔ کتنے لوگ یتیم کے سر پر ہاتھ رکھتے ہیں ۔ سنت تو دوسروں کیلئے امن کی ضمانت ہے ۔ کتنے سنت کا اہتمام کرنے والے دوسروں کیلئے عذاب کا سامان بنا رہے ہیں ۔ سنت تو اپنے دین کے دشمن سے روداری ہے ، کتنے ہیں جنہوں نے مسالک پر دشمنی کی دیوار کھڑی کر رکھی ہے ۔
ہم غور ہی نہیں کرتے کہ ایک سنت اپنا کر بہت ساری سنتوں کو نظر انداز کر دینا ، سنت نبوی سے عقیدت نہیں مذاق ہے ۔ اس سے زیادہ اچھا کیا ہو گا کہ ہم سنت کے اصل مفہوم کو سمجھ بھی لیں اور اپنا بھی لیں
شکریہ
آزاد ہاشمی ۔
No comments:
Post a Comment