Wednesday, 14 June 2017

بیڈن اور ہم "

بیڈن اور ہم "
ہماری سوچ اور فکر کی انحطاط کا یہ عالم ہے کہ ہم اپنی زندگی کی راہ تعین کرنے کیلئے دوسروں کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے ۔ گویا ہمارے پاس اپنے اسلاف اور تمدن کی کتاب خالی ہے ۔ جیسے ہم میں کبھی کوئی اس بیڈن کے پایہ کا انسان پیدا ہی نہیں ہوا ۔ یہ بیڈن یقیناً انتخابات اور نائب صدر تک پہنچنے کیلئے اپنے وسائل استعمال کرتا رہا ہو گا ۔ وقت ، توانائی اور پیسہ خرچ کرتا ہوگا ۔ اپنی اولاد کے حقوق کی غفلت کرتا رہا ، یہی سبب تھا کہ اسے بیٹے کی موذی مرض کا علم نہیں ہوا ۔ یہی بیڈن امریکہ کا دوسرا بڑا آدمی تھا ، جس کے دور اقتدار میں کئی مسلم سربراہان کو قتل کیا گیا ، لاکھوں مسلمان امریکہ کے حواریوں نے بے گھر کئے ۔ لاکھوں مسلمان قتل ہوئے ، ان سب کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ تھا ۔ کون کہہ سکتا ہے کہ اس میں بیڈن کی ایماء شامل نہیں تھی ۔ کون کہہ سکتا ہے کہ بیڈن کو نائب صدر کی مراعات حاصل نہیں تھیں ۔ یقیناً وہ صدر کے بعد سب سے زیادہ ذرائع آمدن کا حامل تھا ۔ یقیناً اسے اور اسکے اہل خانہ کو علاج معالجہ کی سہولتیں میسر تھیں ۔ اگر اسے حاصل تھیں اور اسکی اولاد محروم تھی تو تف ہے ایسے نظام پہ ، ایسے معاشرے پہ ۔ بیڈن اگر اتنا خوددار تھا تو اوبامہ کی بھیک پر اپنی جائیداد کو بیچنے پر ترجیح دیتا ۔
جو باپ اپنی اولاد کے حقوق سے غافل ہو وہ عوام کے حقوق کا حامل کیسے ہو گا ۔ جس ملک میں نائب صدر کا جوان بیٹا علاج نہ ہونے کے باعث مر جائے ، اس ملک میں کتنے جوان مرتے ہونگے جن کو دوائیں میسر نہیں تھیں ۔ پوری دنیا کو بھیک دینے والے خود بھیک لیتے ہوں ، وہاں منافقت کا کیا معیار ہو گا ۔
مجھے تو بیڈن کے اس ڈرامے میں بھی سیاست کی بو آتی ہے ۔ اگر آپ لوگوں کو اسے عظمت کہنا اچھا لگتا ہے ، تو صرف اتنا کہوں گا ، اپنے اسلاف کی تاریخ پڑھئے ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment