Saturday, 17 June 2017

جمہوریت کے سوا

ہمارے شعور میں یہ تصور نقش کیا جا رہا ہے کہ جمہوریت کے سوا کوئی بھی نظام امور سلطنت کو چلانے کے لئے موزوں نہیں ہے - دوست پوچھتے ہیں کہ آخر جمہوری نظام میں کیا خامی ہے کہ ہم نظام اسلام کی رٹ لگا رہے ہیں - کچھ دوست یہ بھی کہتے ہیں کہ اسلام امور سلطنت کا نظام نہیں , یہ تو عبادت کا طور طریقه ہے - ایسے بہت سارے دلائل سامنے آتے ہیں -
اختصار کے ساتھ دونوں نظاموں کو دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ :-
١- جمہوریت انسانی سوچ کا اخذ   کردہ نظام ہے ,اور  انسانی فکر کی تبدیلی کے ساتھ تبدیل کیا جا سکتا ہے - جس میں معاشرہ کی  ترغیبات نہایت اہم ہوتی ہیں - کثرت کا جو مزاج بنے گا وہی نظام سلطنت کا روپ اختیار کر لے گا - اب  یہی  ہو  رہا  ہے کہ  لبرل   اور  سکولر  سوچ  تیزی سے غلبہ   پا  رہی  ہے-
جبکہ اسلام قادر مطلق کا دیا ہوا نظام  ہے , جس میں انسان کی دنیاوی اور اخروی بھلائی کو ملحوظ رکھا گیا اور جو معاشرے  کے بگاڑ کی اصلاح کرتا ہے , جس میں کسی تبدیلی کا امکان نہیں -
٢ - جمہوریت  میں اہلیت اور کردار  غیر اہم  رہتے  ہیں - فیصلے گنتی کے اعتبار سے کیے جاتے ہیں - اگر لٹیروں ایک جم غفیر موجود ہو تو لٹیرا صاحب توقیر ہو جایگا -
اسلام میں کردار اور اہلیت اولین ہیں -  انتخاب کا حق بھی اہل  اور صاحبان کردار ہی کو ہے - جس سے ایک اچھا معاشرہ ہی جنم لیگا -
٣- جمہوریت میں ٹارگٹ اقتدار ہوتا ہے , جس کے  حصول کے ہر طریقه روا سمجھا جاتا ہے - مخالف کی پردہ دری کرنا معیوب نہیں ہوتا -
جبکہ اسلام میں ٹارگٹ اسلامی طرز پر امور چلانے لازمی ہوتے ہیں لہٰذا یہ ایک خدمت کے طور پر کیے جاتے ہیں , ذمہ دار نہ صرف شوری کو جواب دہ ہوتا ہے بلکہ عقیدہ کے لحاظ سے الله کے سامنے بھی خود کو جواب دہ سمجھتا ہے - یہ احتساب ایک عام شہری بھی کرنے کا مجاز ہوتا ہے -
٤- جمہوریت میں اقتدار کے حصول کی  تگ  و دو میں باہمی اختلافات اور رنجشیں جنم لیتی ہیں , جس کا اثر معاشرے میں بگاڑ پیدا کرتا ہے , اس سبب سے شرفا الگ ہو کر بیٹھ جاتے ہیں , اور فسادی ذہنیت کے لوگ آگے آ جاتے ہیں -
اسلامی نظام میں بہترین اخلاق کے لوگ نظام حکومت چلاتے ہیں , جس سے معاشرہ نہایت بہتر ہوتا ہے -
شکریہ
آزاد

No comments:

Post a Comment