میڈیا پہ رمضان کے مہینے پہ ایسے پروگراموں کا نشر ہونا , نہ صرف معیوب ہے -
در اصل یہ ایسی تحریک ہے , جو ہمیں اہستہ آہستہ لبرل اور لادین کر رہی ہے -
ہم سمجھتے ہیں کہ اسکا محرک کوئی ایک فرد ہے - حقیقت میں وہ ایک بد نصیب
مہرہ ہے جس کے پیچھے کسی شاطر کھلاڑی کا ہاتھ ہے - مسلمان ہونے کے ناطے
ایسے پروگرام صرف رمضان میں بند ہونے کا تقاضہ , اس سوچ کا مظہر ہے کہ ہم
ایسے بیہودہ پروگراموں کو باقی پورا سال دیکھنے پہ رضا مند ہیں - صرف رمضان
میں احترام کر لیا جاے - جو عمل رمضان میں جایز نہیں وہ باقی مہینوں میں
بھی نا جائز رہے گا - ایسا کیوں ہو رہا ہے , شائد اس سوال کا جواب یہی ہے
کہ ہماری اجتماعی غفلت اس تحریک کی کامیابی کا سبب ہے - ہم سب اسے قبول
کرتے جا رہے ہیں - وہ پروگرام جو ہم اپنے دوستوں میں بیٹھ کر دیکھنے میں
شرم محسوس کرتے تھے اب اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر آنکھ جھپکے بغیر دیکھتے
ہیں -
ہمیں دینی اقدار سے دور کرنے میں ہمارے مذہبی طبقوں کا بہت ہاتھ ہے , ہم چھوٹے چھوٹے مسائل میں الجھے ہوۓ ہیں , مگر اصل طوفان سے بے خبر ہیں جو اب ہر گھر میں گھس گیا ہے - ایک مغرب زدہ شخص کو ایک عرصۂ سے عالم دین بنا کر پیش کیا جاتا رہا , علما بھی اسکے پروگراموں کا حصہ بنتے رہے , اب اسی شخص سے مذہبی پروگراموں میں حیا باختہ پروگرام با قاعدگی سے جاری ہیں - مدرسوں میں بیٹھے علما , اسمبلیوں میں بیٹھے مذہبی لیڈر , بات بات پہ جلوس نکالنے والی جماعتیں , اقتدار کی کرسی پہ براجمان لوگ , بڑے بڑے لکھاری , نامور سیاستدان , سب خاموش ہیں - میڈیا پہ کنٹرول کرنے والا ادارہ یا تو بے بس ہے یا پھر اس تحریک کا حمایتی - ان پرگراموں کو فنڈ دینے والے لوگ بھی اسکا حصہ ہیں -
میں بھی , آپ بھی اپنی آنے والی نسلوں کو جو ماحول دیکر جا رہے ہیں - اسکی سزا بھی ہمیں ضرور ہو گی -
یہ جہاد کے مبلغ , کفر کے فتوے بانٹنے والے , اسلام کے نام پر چندے اور قربانی کی کھالیں جمع کرنے والے , یہ شیوخ الاسلام سب کہاں ہیں - کیا اسلام کے خلاف لبرلز کی تحریک روکنا مذہبی فریضہ نہیں -
ہم نے الله کے دین کی رسوائی کرنے والی زبانیں روکنے کی جہد چھوڑ دی الله نے ہماری آہ و ہکا پہ ہماری مدد چھوڑ دی -
آج فکر اور عمل کی ضرورت ہے.
شکریہ
آزاد ہاشمی
ہمیں دینی اقدار سے دور کرنے میں ہمارے مذہبی طبقوں کا بہت ہاتھ ہے , ہم چھوٹے چھوٹے مسائل میں الجھے ہوۓ ہیں , مگر اصل طوفان سے بے خبر ہیں جو اب ہر گھر میں گھس گیا ہے - ایک مغرب زدہ شخص کو ایک عرصۂ سے عالم دین بنا کر پیش کیا جاتا رہا , علما بھی اسکے پروگراموں کا حصہ بنتے رہے , اب اسی شخص سے مذہبی پروگراموں میں حیا باختہ پروگرام با قاعدگی سے جاری ہیں - مدرسوں میں بیٹھے علما , اسمبلیوں میں بیٹھے مذہبی لیڈر , بات بات پہ جلوس نکالنے والی جماعتیں , اقتدار کی کرسی پہ براجمان لوگ , بڑے بڑے لکھاری , نامور سیاستدان , سب خاموش ہیں - میڈیا پہ کنٹرول کرنے والا ادارہ یا تو بے بس ہے یا پھر اس تحریک کا حمایتی - ان پرگراموں کو فنڈ دینے والے لوگ بھی اسکا حصہ ہیں -
میں بھی , آپ بھی اپنی آنے والی نسلوں کو جو ماحول دیکر جا رہے ہیں - اسکی سزا بھی ہمیں ضرور ہو گی -
یہ جہاد کے مبلغ , کفر کے فتوے بانٹنے والے , اسلام کے نام پر چندے اور قربانی کی کھالیں جمع کرنے والے , یہ شیوخ الاسلام سب کہاں ہیں - کیا اسلام کے خلاف لبرلز کی تحریک روکنا مذہبی فریضہ نہیں -
ہم نے الله کے دین کی رسوائی کرنے والی زبانیں روکنے کی جہد چھوڑ دی الله نے ہماری آہ و ہکا پہ ہماری مدد چھوڑ دی -
آج فکر اور عمل کی ضرورت ہے.
شکریہ
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment