" اصل ہدف اسلام "
کفر اپنے گماشتوں کو سیاست کے میدان میں اسلئیے اتارتا ہے اور پوری توانائی سے انکی مدد کرتا ہے ۔ کہ رفتہ رفتہ اسلامی اقدار کی افادیت کو ذہنوں سے کھرچ ڈالے ۔ اس میں وہ کسقدر کامیاب ہوا ، ہرذی شعور اگاہ ہے ۔ کچھ لوگوں کے ذہن میں لبرل ازم بٹھا دیا گیا انکو اسلام کی ہر بات قدامت پرستی اور پتھر کے زمانہ کی بات لگتی ہے اور یہ وہ طبقہ ہے جو حکومتی نظام پر پوری طرح سے حاوی ہے ۔ سیاسی میدان میں بھی یہی لوگ اکثریت میں ہیں ۔ چند مذہب کے لباس میں سیاستدان بھی موجود ہیں ، جو تقاریر کی حد تک اسلام کی خدمت کے لئیے سیاست کرتے ہیں ، ان کا نعرہ اسلام اور عمل وہی لبرل ازم ہے ۔ یہ وہ طبقہ ہے جو اصل لابی کا فرض انجام دے رہا ہے ۔
یہ تصور کہ مذہبی تعلیم دینے والے مدرسے دہشت گردی کی جڑ ہیں ، اسقدر پختہ ہو گیا ہے ، کہ ہر وہ شخص جو اسلامی طرز زندگی اپنائے بیٹھا ہے دہشتگرد سمجھا جاتا ہے ۔
حالانکہ کسی بھی معاشرے میں انتقام ، افلاس ، نا انصافی ، عدل کا فقدان ، کردار کی بے راہروی اور بیرونی عوامل فسق و فساد کا سبب ہوتے ہیں ۔ ایک سچا مسلمان امن کا پیامبر ہوتا ہے ۔
حیرانی کی بات یہ نہیں کہ اسلام کی تعلیم دینے والے مدرسے کیوں ہدف ہیں ۔ حیرانی کی بات یہ ہے مدرسوں کی آمدن پر سیاست کا کھیل جاری رکھنے والے اب جہاد کی آواز بلند کرنے میں لیت و لعل کیوں کئے بیٹھے ہیں ۔ کافر کافر کا کھیل کھیلنے کے شوقین اصل کفر سے عملی خاموشی کا مظاہرہ کیوں کر رہے ہیں ۔ مذہبی شدت پسندی تو اسلامی تعلیمات کا درس کبھی بھی نہیں تھا ۔
پھر وہ کیا اسباب ہوئے کہ جن سے امن کی توقعات ہونی چاہئے تھیں ، ان سے خوف کیوں ہونے لگا ہے ۔ لمحہ فکریہ ہے اور اصل حل کی اشد ضرورت ہے ، ہم سب کو عمومی طور پر اور مذہبی قائیدین کو خصوصی طور پر باہمی اختلافات سے ہٹ کر مثبت سوچ اور رویہ اختیار کرنا ہو گا ۔
ورنہ مدرسے اور اسلام سے منسلک تمام ادارے ، حیلے بہانوں سے بند ہوتے رہیں گے ۔ کیونکہ اصل ہدف اسلام ہے ۔
شکریہ
آزاد ھاشمی
کفر اپنے گماشتوں کو سیاست کے میدان میں اسلئیے اتارتا ہے اور پوری توانائی سے انکی مدد کرتا ہے ۔ کہ رفتہ رفتہ اسلامی اقدار کی افادیت کو ذہنوں سے کھرچ ڈالے ۔ اس میں وہ کسقدر کامیاب ہوا ، ہرذی شعور اگاہ ہے ۔ کچھ لوگوں کے ذہن میں لبرل ازم بٹھا دیا گیا انکو اسلام کی ہر بات قدامت پرستی اور پتھر کے زمانہ کی بات لگتی ہے اور یہ وہ طبقہ ہے جو حکومتی نظام پر پوری طرح سے حاوی ہے ۔ سیاسی میدان میں بھی یہی لوگ اکثریت میں ہیں ۔ چند مذہب کے لباس میں سیاستدان بھی موجود ہیں ، جو تقاریر کی حد تک اسلام کی خدمت کے لئیے سیاست کرتے ہیں ، ان کا نعرہ اسلام اور عمل وہی لبرل ازم ہے ۔ یہ وہ طبقہ ہے جو اصل لابی کا فرض انجام دے رہا ہے ۔
یہ تصور کہ مذہبی تعلیم دینے والے مدرسے دہشت گردی کی جڑ ہیں ، اسقدر پختہ ہو گیا ہے ، کہ ہر وہ شخص جو اسلامی طرز زندگی اپنائے بیٹھا ہے دہشتگرد سمجھا جاتا ہے ۔
حالانکہ کسی بھی معاشرے میں انتقام ، افلاس ، نا انصافی ، عدل کا فقدان ، کردار کی بے راہروی اور بیرونی عوامل فسق و فساد کا سبب ہوتے ہیں ۔ ایک سچا مسلمان امن کا پیامبر ہوتا ہے ۔
حیرانی کی بات یہ نہیں کہ اسلام کی تعلیم دینے والے مدرسے کیوں ہدف ہیں ۔ حیرانی کی بات یہ ہے مدرسوں کی آمدن پر سیاست کا کھیل جاری رکھنے والے اب جہاد کی آواز بلند کرنے میں لیت و لعل کیوں کئے بیٹھے ہیں ۔ کافر کافر کا کھیل کھیلنے کے شوقین اصل کفر سے عملی خاموشی کا مظاہرہ کیوں کر رہے ہیں ۔ مذہبی شدت پسندی تو اسلامی تعلیمات کا درس کبھی بھی نہیں تھا ۔
پھر وہ کیا اسباب ہوئے کہ جن سے امن کی توقعات ہونی چاہئے تھیں ، ان سے خوف کیوں ہونے لگا ہے ۔ لمحہ فکریہ ہے اور اصل حل کی اشد ضرورت ہے ، ہم سب کو عمومی طور پر اور مذہبی قائیدین کو خصوصی طور پر باہمی اختلافات سے ہٹ کر مثبت سوچ اور رویہ اختیار کرنا ہو گا ۔
ورنہ مدرسے اور اسلام سے منسلک تمام ادارے ، حیلے بہانوں سے بند ہوتے رہیں گے ۔ کیونکہ اصل ہدف اسلام ہے ۔
شکریہ
آزاد ھاشمی
No comments:
Post a Comment