Saturday, 17 June 2017

انصاف یا ظلم

انصاف یا ظلم !
سوشل میڈیا پہ دو نوجوانوں کی گولیوں سے چھلنی لاشیں , جن کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں تھیں - پولیس مقابلہ کرتے ہوۓ مارے گئے - سوال یہ نہیں کہ انہوں نے کیا جرم کیا جو پکڑے گئے - سوال یہ ہے کہ ہتھکڑیوں میں کوئی مقابلہ  کیسے کر سکتا ہے - سوال یہ کہ جہاں مقابلہ ہوا وہاں یہ بہادر قیدی پہنچے کیسے - سوال یہ ہے کہ جس اسلحہ سے مقابلہ کیا پولیس کی نگرانی میں وہ اسلحہ ان کے پاس کیسے پہنچا -
کچھ مخصوص پولیس افسران کے ساتھ یہ مقابلوں کا تسلسل ایک طویل عرصے سے لوگ دیکھ رہے ہیں -
مجرم کو سزا ملنا چاہیے تا کہ جرم کا خاتمہ ہو , سزا سر عام ملنی چاہیے , مگر اسطرح سے نہیں , جیسے کچھ مخصوص پولیس افسران نے وطیرہ بنا رکھا ہے - انکے خلاف نہ محکمانہ کاروائی کی جاتی ہے , نہ عدالتیں پوچھتی ہیں , نہ میڈیا شور مچاتا ہے , نہ انسانی حقوق کے علمبردار بولتے ہیں , نہ سیاسی پنڈت کچھ کہتے ہیں -
یہ کونسا عدل ہے , جس کا اختیار پولیس افسر کے ہاتھ میں ہے کہ وہ چاہے تو مار دے , چاہے تو قاتل کو مفرور قرار دے دے - یہ وہ برائی ہے - جس  نے معاشرے کو دہشت گرد دئیے - جس کی وجہ سے کئی بے گناہ پولیس والے مارے گئے -  اور  اصل فساد کی  جڑیں   ابھی  تک   ہری بھری ہیں - رشوت لے  کر جعلی مقدمات , غریب لوگوں پہ بلا وجہ کی دھونس دھمکی اور ایسے ہی اختیارات کے نا جایز استعمال کی وجہ سے پولیس کا اعتماد ختم ہو چکا - جس ادارے کو تحفظ کا نشان ہونا چاہیے تھا , وہ ادارہ خوف کی علامت بنا ہوا ہے -
اسطرف دیانتدار افسران کی خصوصی توجہ کی اشد ضرورت ہے - نہیں تو انتقام کی آگ انکی آنے والی نسلوں کو ضرور جلاے گی -
الله زیادتی کرنے والے کسی بھی فرد کو معاف نہیں کرتا - یہ ہمارا ایمان بھی ہے اور مشاہدہ بھی -
شکریہ
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment