میرے وطن کا ایک اور سپوت زہر کا پیالہ پی کر اپنی بھوک اور غربت سے نجات پا گیا - صرف اپنی جان دیتا تو مایوسی کی انتہا تھی , مگر اس نے اپنے ہاتھوں سے اپنی بیٹی کو بھی زہر دیا - بد نصیب باپ نے سوچا ہو گا کہ جس دنیا میں اسکے مضبوط کندھے اسکا کا رزق تلاش نہیں کر سکے - وہاں کا ظالم معاشرہ اسکی کمزور بیٹی کو روٹی کہاں دے گا - درندوں کے نگر میں اپنی چادر کو کیسے بچا پاے گی -
جس روز وہ زہر پلا رہا ہو گا , اسکے اپنے خون کے رشتوں میں دستر خوان سجے ہوں گے - قوم کے غم میں سیاسی مداری بھی گلچھرے اڑا رہے ہوں گے - ہمسایوں میں بھی چولہے جلے ہوں گے -
جس معاشرے میں بے حسی کا یہ عالم ہو , اس معاشرے میں زندہ رہنے کا فائدہ - اسلام کا پیغام ہے کہ اگر کسی عبادت گزار کا ہمسایہ رات کو بھوکا سو جاے تو اس عابد کی عبادت بھی الله کو قبول نہیں - یہ تقدیر کا مارا خاندان کتنی راتیں بھوکا سویا ہو گا -
اسے خود کشی کہیں گے یا قتل - یہ قتل ہے , اور یہ قتل ہم سب نے کیا , معاشرہ انکا قاتل ہے , علاقے کا ہر صاحب حثیت قاتل ہے - حکمران قاتل ہیں - اسکے تمام رشتہ دار قاتل ہیں - اسکی لاش پہ رونے والے قاتل ہیں - جس نگر میں اس نے زہر پیا وہ سارا نگر قاتل ہے - ایک بھیانک قتل -
آزاد ہاشمی
Friday, 16 June 2017
اس نے زہر کیوں پیا
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment