تعلیم ہر بچے کا مساوی حق ہے - تعلیم میں امیر اور غریب کا امتیاز انصاف کا
قتل ہے - اور اس بے انصافی میں پہلے درجے پہ حکمران زمہدار ہیں , دوسرے
درجے میں وہ تاجر جنہوں نے تعلیم کو کاروبار بنا دیا , تیسرے درجے میں وہ
ارباب اختیار جو پالیسی ساز ہیں , دانشور بھی بری الذمہ نہیں کیونکہ وہ اس
پر آواز نہیں اٹھاتے , میڈیا , سیاستدان اور ہم سب اس نا انصافی کے مرتکب
ہیں - پسماندہ علاقوں کے بچوں کا کیا قصور ہے کہ وہ تیسرے درجے کی تعلیم سے
آگے نہیں بڑھ پاتے - ایسی تعلیم , ایسا ماحول اور ایسی سہولیات کے ساتھ
ذہین سے ذہین طالبعلم کی منزل ایک کلرک سے آگے کیا ہو گی - یہ معیار کی
تفریق بھی ایک غیر اخلاقی قدم ہے - جب ایک غریب بچے اور ایک امیر بچے کو
ملنے والی سہولیات ہی مختلف ہونگی , تو دونوں کی ذہنی نشو نما بھی مختلف ہو
گی - ایک ڈاکٹر بن جاے گا تو دوسرا کمپوڈر سے آگے سوچ ہی نہیں سکے گا -
ایک انجنئیر بن جاے گا تو دوسرا موٹر مکینک - ایک پائلٹ بن جاے گا تو دوسرا
ٹرک یا بس ڈرائیور - یہ سلسلہ نسل در نسل چل رہا ہے اور اگر تعلیمی معیار
میں تبدیلی نہ آئ تو آئندہ بھی یہی کچھ ہوتا رہے گا - دیہاتوں اور پسماندہ
علاقوں کے با شعور لوگوں کو جاگنا ہو گا - اور ایسے اقدامات کرنے ہوں گے
کہ انکے بچے بھی آگے بڑھ سکیں - شہروں کے لوگوں نے بھی ہوش کے ناخن نہ لئے
تو تعلیم کے بیوپاری انکے بچوں سے بھی مستقبل چھین کر امراء کے بچوں کی
جھولی میں ڈال دیں گے - پھر صرف اور صرف وہی افسر بنے گا , ڈاکٹر بنے گا ,
انجنئیر بنے گا , جج بنے گا , جس کے باپ کے پاس پیسہ ہو گا - باقی سب
تیسرے درجے کے شہری ہوں گے - سیاسی کارکن ہوں گے یا پھر مشتعل دہشتگرد -
ملکی ترقی کی کہانی , خواب اور امیدیں دم توڑ دیں گی -
ہم سب کو اس اہم مسلے کا حل سوچنا ہو گا , اسے عملی جامہ پہنانے کے لئے متحرک ہونا پڑے گا -
شکریہ
آزاد ہاشمی
ملکی ترقی کی کہانی , خواب اور امیدیں دم توڑ دیں گی -
ہم سب کو اس اہم مسلے کا حل سوچنا ہو گا , اسے عملی جامہ پہنانے کے لئے متحرک ہونا پڑے گا -
شکریہ
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment