Friday, 16 June 2017

تعلیم ہر بچے کا مساوی حق ہے

تعلیم ہر بچے کا مساوی حق ہے - تعلیم میں امیر اور غریب کا امتیاز انصاف کا قتل ہے - اور اس بے انصافی میں پہلے درجے پہ حکمران زمہدار ہیں , دوسرے درجے میں وہ تاجر جنہوں نے تعلیم کو کاروبار بنا دیا , تیسرے درجے میں وہ ارباب اختیار جو پالیسی ساز ہیں , دانشور بھی بری الذمہ نہیں کیونکہ وہ اس پر آواز نہیں اٹھاتے , میڈیا , سیاستدان اور ہم سب اس نا انصافی کے مرتکب ہیں - پسماندہ علاقوں کے بچوں کا کیا قصور ہے کہ وہ تیسرے درجے کی تعلیم سے آگے نہیں بڑھ پاتے - ایسی تعلیم , ایسا ماحول اور ایسی سہولیات کے ساتھ ذہین سے ذہین طالبعلم کی منزل ایک کلرک سے آگے کیا ہو گی -  یہ معیار کی تفریق بھی ایک غیر اخلاقی قدم ہے - جب ایک غریب بچے اور ایک امیر بچے کو ملنے والی سہولیات ہی مختلف ہونگی , تو دونوں کی ذہنی نشو نما بھی مختلف ہو گی - ایک ڈاکٹر بن جاے گا تو دوسرا کمپوڈر سے آگے سوچ ہی نہیں سکے گا - ایک انجنئیر بن جاے گا تو دوسرا موٹر مکینک - ایک پائلٹ بن جاے گا تو دوسرا ٹرک یا بس ڈرائیور - یہ سلسلہ نسل در نسل چل رہا ہے اور اگر تعلیمی معیار میں تبدیلی نہ آئ تو آئندہ بھی یہی کچھ ہوتا رہے گا -  دیہاتوں اور پسماندہ علاقوں کے با شعور لوگوں کو جاگنا ہو گا - اور ایسے اقدامات کرنے ہوں گے کہ انکے بچے بھی آگے بڑھ سکیں - شہروں کے لوگوں نے بھی ہوش کے ناخن نہ لئے تو تعلیم کے بیوپاری انکے بچوں سے بھی مستقبل چھین کر امراء کے بچوں کی جھولی میں ڈال دیں گے - پھر  صرف اور صرف وہی افسر بنے گا , ڈاکٹر بنے گا , انجنئیر بنے گا , جج بنے گا , جس کے باپ کے پاس پیسہ ہو گا - باقی سب تیسرے درجے کے شہری ہوں  گے - سیاسی کارکن ہوں گے یا پھر مشتعل دہشتگرد -
ملکی ترقی کی کہانی , خواب اور امیدیں دم توڑ دیں گی -
ہم سب کو اس اہم مسلے کا حل سوچنا ہو گا , اسے عملی جامہ پہنانے  کے  لئے  متحرک  ہونا  پڑے گا -
   شکریہ
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment