کبھی وقت ملے تو چند لمحوں کے لئے کربلا چلے جانا- وہاں بے وطن قافلہ خیمہ
زن ہے - پردہ دار بیبیاں ہیں , جن کے ننگے سر کبھی فلک نے بھی نہیں دیکھے
- معصوم بچے ہیں , چند سن رسیدہ مرد ہیں اور چند کڑیل جوان ہیں - مختصر
سا قافلہ ہے اور ایک جم غفیر فوج نے روک رکھا ہے - تیر تفنگ سے لیس لشکر
اپنی پوری رعونت سے اٹھکیلیوں میں مگن ہے - سلام کہنا اور سالار قافلہ سے
حسب و نسب پوچھنا - اور پوچھنا یہ کون ہیں جنہوں نے آپ کا راستہ روک رکھا
ہے اور آپ بے سر و سامانی والے کون ہو - اگر حسن خلق سے جواب ملے تو سمجھ
لینا کہ رسول کا گھرانہ ہے - سالار قافلہ میں خوف کی کوئی علامت نہ ملے تو
جان لینا علی کا بیٹا ہو گا -خیموں میں ہو کا عالم ملے تو سمجھ جانا کہ پس
خیمہ فاطمہ کی بیٹیاں ہوں گی -
سخی گھرانہ ہے - جو چاہے مانگ لینا - ایک اجازت اپنے لئے , ایک اجازت میرے لئے بھی - رونے کی مظلومین کربلا کی بے بسی پہ اجازت مانگ لینا - قربان ہونے کی اجازت مانگ لینا اہل بیت کی ناموس پہ - محبت مانگ لینا شهیدان کربلا کی - سجدے کی لذت مانگ لینا - اپنی بیٹیوں کے چادریں مانگ لینا - عباس کی وفا مانگ لینا - جو من چاہے مانگ لینا - کبھی خالی نہیں لوٹو گے -
آزاد ہاشمی
سخی گھرانہ ہے - جو چاہے مانگ لینا - ایک اجازت اپنے لئے , ایک اجازت میرے لئے بھی - رونے کی مظلومین کربلا کی بے بسی پہ اجازت مانگ لینا - قربان ہونے کی اجازت مانگ لینا اہل بیت کی ناموس پہ - محبت مانگ لینا شهیدان کربلا کی - سجدے کی لذت مانگ لینا - اپنی بیٹیوں کے چادریں مانگ لینا - عباس کی وفا مانگ لینا - جو من چاہے مانگ لینا - کبھی خالی نہیں لوٹو گے -
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment