Saturday, 17 June 2017

ہے کوئی ایسی قربانی

الله کے خلیل نے الله کی رضا کی خاطر اپنے لخت جگر کی قربانی کا ارادہ فرمایا - اور اپنے ارادے کی تکمیل میں کسی بھی فطری کمزوری کو روکنے کے لئے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھنے کو ضروری خیال کیا - بیٹے کو بھی باندھ لیا - ایک طرف تو جذبہ پدری تھا دوسری طرف رضاۓ ربی تھی - یہ تھا آغاز رضاے ربی کے لئے اولاد کی قربانی کا -
اس آغاز کو ایک ایسا روپ بخشا کربلا کی تپتی ریت پہ حبیب خدا کے نواسے " حسین " نے -
الله کی راہ میں , الله کی رضا پہ , نہ آنکھوں پہ پٹی باندھی , نہ بیٹوں کے پاؤں میں رسی باندھنے کی نوبت آئ - اپنے ہاتھوں پہ اٹھا کے , اپنی کھلی آنکھوں کے سامنے اپنے جگر کے ٹکڑے , اپنی آنکھوں کے نور قربان کر دیے -
ہے کوئی ایسی قربانی , تاریخ کے کسی ایک صفحه پہ لکھی ہوئی جو حسین نے اپنے خون سے لکھی -
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment