Thursday, 15 June 2017

ہم سب جھوٹ بولتے ہیں

" بیٹا ! میری بات سنو "
خستہ حال شخص نے آواز دی - شکل و صورت سے ایک دیہاتی لگ رہا تھا - ایسے لوگ اکثر ایک کہانی سنا کر بھیک مانگتے ہیں -
" ہم سب جھوٹ بولتے ہیں - جھوٹے ہیں ہم سب "
یہ سنتے ہی میرے حواس بکھر گئے -
" ہم اپنے رب سے بھی جھوٹ بولتے ہیں - ہم رب کی بندگی نہیں کرتے - اپنی ضرورتوں کے سامنے ماتھا ٹیکتے ہیں - ہم اپنے آپ سے جھوٹ بولتے ہیں , خود کو مسلمان کہتے ہیں , جانتے ہوۓ بھی کہ ہمارے سارے کام اسلام کے خلاف ہیں "
میں حیران تھا , کہ یہ سارا لیکچر مجھے کیوں دیا جا رہا ہے -
" عدالتیں دیکھو , جج الله کی کتاب پہ سچ بولنے کا وعدہ لیتا ہے , اور جھوٹ بولنے والا وکیل جیت جاتا ہے "
" رات کو میں نے بیٹے سے دوائی کے لئے پیسے مانگے - کہنے لگا ابھی تنخواہ نہیں ملی - صبح اٹھ کے شور مچا دیا , کہ میری جیب سے پیسے کس نے نکالے , نوکر کو اتنا مارا جیسے جانور کو مار رہا ہو - بار بار کہ رہا تھا , پانچ ہزار تھے "
" پتہ ہی نہیں چلا کہ اس نے باپ سے جھوٹ بولا تھا یا نوکر سے بول رہا ہے "
میں مبہوت کھڑا سوچ رہا تھا , کہ بابا کی کوئی کل ڈھیلی ہے -
" تم سوچ رہے ہو گے کہ میں دیوانہ ہو گیا ہوں - میری بیوی بھی یہی کہتی ہے - جھوٹ بولتی ہے کہ اسے اولاد سے کوئی شکایت نہیں - مامتا اسے سچ نہیں بولنے دیتی "
" تم مجھے دیوانہ تو نہیں سمجھ رہے نا "
مجھ سے اچانک سوال تھا
" نہیں " میں نے اسکا دل رکھنے کو کہا - وہ زور سے ہنسا
" دیکھا نا بیٹا - تم نے بھی جھوٹ بول دیا "
(آزاد ہاشمی )

No comments:

Post a Comment