Thursday, 15 June 2017

لا وارث لاش

سنسان سی گلی میں گھٹا ٹوپ اندھیرا تھا - کسی کے کراھنے کی آواز سے میں چونک گیا - عجیب سا کرب تھا آواز میں - ایسے لگا جیسے کسی نے میرے دونوں پاؤں باندھ دئیے ہوں - کراہنے والی ایک خستہ حال بوڑھی عورت تھی - بہت ساری آوازوں کے اس نے آنکھیں کھولیں -
" ماں جی ! آپ بیمار ہیں "
" نہیں بیٹا - تھکن کی وجہ سے تکلیف میں ہوں "
" آپ نے کھانا کھایا " میں نے پوچھا - جواب" نہیں"تھا -
کھانے کا انتظام کرنے کے بعد , میں میں نے مزید جاننے کے لئے پوچھا -
" آپ کہاں سے آئ ہیں - آپ کا گھر کہاں ہے "
" میرا کوئی گھر نہیں"
جواب میں دکھ بھی تھا اور شکایت بھی -
" اماں جی , کہاں جانا ہے آپ کو " میں نے پوچھا - وہ
خاموش رہی -
" میں ٹیکسی لے دیتا ہوں "
وہ خاموش تھی -
" بیٹا , اس عمر میں مائیں پاگل ہو جاتی ہیں - انکا بولنا بچوں کو برا لگتا ہے " یہ کہتے ہی اس نے بلک بلک کر رونا شروع کر دیا -
" میں بھی ایک پاگل ماں ہوں - کتنا اور جی لوں گی - تھوڑے دن اور صبر کر لیتے - سن لیتے میری اوٹ پٹانگ - کیا فرق پڑتا تھا - مائیں بھی تو بچوں کی اوٹ پٹانگ سنتے ہوۓ پرورش کرتی ہیں "
" تم جاؤ بیٹا - رات گزرتے ہی میں چلی جاؤں گی "
" کہاں جائیں گی آپ "میں
نے پوچھا- وہ اپنی ضد پہ قائم تھی - اس جگہ سے ہلنے کو تیار نہیں تھی - صبح اسی جگہ پہ ایک لا وارث لاش پڑی تھی - کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ کون ہے -
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment