یہ کیسا مذاق ہے کہ جب بیسیوں لوگ موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں , سینکڑوں زخمی
اور اپاہج ہو جاتے ہیں - تو یاد آ جاتا ہے کہ ہمیں ان واقعات کے محرک
لوگوں کو سزا دینی چاہیے - ہمیں اسوقت پتہ چلتا ہے کہ جب پانی سر سے اونچا
ہو جاتا ہے - گھنٹوں میں سینکڑوں مشکوک لوگ گرفتار کر لئے جاتے ہیں - یہ
وہ لوگ ہوتے ہیں جو شائد پہلے سے معلوم ہوتے ہیں , یا شائد یہ لوگ محض خانہ
پری کے لئے پکڑے جاتے ہیں -
ہمارے امراء اور بیگمات موم بتیاں , پھول اور اگر بتیاں لے کر اس جگہ سجانے آ جاتے ہیں , جہاں بد قسمت لوگوں کے چتھڑے پڑے ہوتے ہیں -
کیا یہ تمام لوگ جو ملک کی سلامتی کے ذمہ دار ہیں , جب انکو کو معلوم ہوتا ہے کہ کون لوگ مشکوک ہیں , تو یہ کس چیز کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں , انکو اپنے آہنی ہاتھ کیوں نہیں دکھاتے - کیا انکو پکڑنے کے لئے بہت ساری جانوں کا نذرانہ ضروری ہوتا ہے -
اور جن لوگوں کو پکڑ لیا جاتا ہے , انکے ساتھ بعد میں کیا ہوا , قوم کو بتایا کیوں نہیں جاتا -
کوئی بتا سکتا ہے کہ ایسے واقعات میں گرفتار کیۓ جانے والے کتنے مجرم پھانسی دیے گئے -
کوئی بتا سکتا ہے کہ یہ مارے جانے والوں میں کتنے لیڈروں کے رشتہ دار تھے , کتنے جنرلوں کے عزیز تھے , کتنے پولیس افسران کے قریبی تھے -
غریب مارے گئے , پانچ لاکھ دے کر آنسو پونچھ دیے جایں گے - اور جو اپاہج ہو گئے انکو بیساکھیاں تحفے میں دے دی جاینگی -
اب کون ہے جو اس گناہ کی جرات کرے کہ قوم کے مسیحا سے پوچھے کہ صاحب بہادر بلا امتیاز کاروائی کیلیے اتنی جانوں کا نذرانہ کیوں ضروری تھا - پہلے خیال کیوں نہیں آیا -
یہ گناہ تو بڑے سے بڑا میڈیا کا ہیرو بھی نہیں کرے گا - یہ ہے
وہ مجرمانہ خاموشی جس کے ہم سب ذمہ دار ہیں - موت قریب قریب ہر آنگن میں پہنچ گئی ہے -
بد قسمتی اور قوم کے بے حس ہونے کا اندازہ لگائیں کہ جس وزیر کو اس واقعہ کی تحقیق کا انچارج بنایا گیا ہے , اسے کل ایک ٹی وی پروگرام میں یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ اس گلشن کے دروازے کتنے ہیں , جہاں موت ناچی ہے - اور موصوف پروگرام میں اینکر کو آنکھیں دکھا رہے تھے -
ایسے غنڈہ راج میں جو ہو رہا ہے کچھ عجب نہیں -
پتہ نہیں قوم کو یہ سزا کب تک ملتی رہیگی -
آزاد ہاشمی
ہمارے امراء اور بیگمات موم بتیاں , پھول اور اگر بتیاں لے کر اس جگہ سجانے آ جاتے ہیں , جہاں بد قسمت لوگوں کے چتھڑے پڑے ہوتے ہیں -
کیا یہ تمام لوگ جو ملک کی سلامتی کے ذمہ دار ہیں , جب انکو کو معلوم ہوتا ہے کہ کون لوگ مشکوک ہیں , تو یہ کس چیز کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں , انکو اپنے آہنی ہاتھ کیوں نہیں دکھاتے - کیا انکو پکڑنے کے لئے بہت ساری جانوں کا نذرانہ ضروری ہوتا ہے -
اور جن لوگوں کو پکڑ لیا جاتا ہے , انکے ساتھ بعد میں کیا ہوا , قوم کو بتایا کیوں نہیں جاتا -
کوئی بتا سکتا ہے کہ ایسے واقعات میں گرفتار کیۓ جانے والے کتنے مجرم پھانسی دیے گئے -
کوئی بتا سکتا ہے کہ یہ مارے جانے والوں میں کتنے لیڈروں کے رشتہ دار تھے , کتنے جنرلوں کے عزیز تھے , کتنے پولیس افسران کے قریبی تھے -
غریب مارے گئے , پانچ لاکھ دے کر آنسو پونچھ دیے جایں گے - اور جو اپاہج ہو گئے انکو بیساکھیاں تحفے میں دے دی جاینگی -
اب کون ہے جو اس گناہ کی جرات کرے کہ قوم کے مسیحا سے پوچھے کہ صاحب بہادر بلا امتیاز کاروائی کیلیے اتنی جانوں کا نذرانہ کیوں ضروری تھا - پہلے خیال کیوں نہیں آیا -
یہ گناہ تو بڑے سے بڑا میڈیا کا ہیرو بھی نہیں کرے گا - یہ ہے
وہ مجرمانہ خاموشی جس کے ہم سب ذمہ دار ہیں - موت قریب قریب ہر آنگن میں پہنچ گئی ہے -
بد قسمتی اور قوم کے بے حس ہونے کا اندازہ لگائیں کہ جس وزیر کو اس واقعہ کی تحقیق کا انچارج بنایا گیا ہے , اسے کل ایک ٹی وی پروگرام میں یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ اس گلشن کے دروازے کتنے ہیں , جہاں موت ناچی ہے - اور موصوف پروگرام میں اینکر کو آنکھیں دکھا رہے تھے -
ایسے غنڈہ راج میں جو ہو رہا ہے کچھ عجب نہیں -
پتہ نہیں قوم کو یہ سزا کب تک ملتی رہیگی -
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment