Saturday, 17 June 2017

جمہوریت کا جائزہ

آج ہم اپنی جمہوریت کا جائزہ لیتے ہیں , جسکے نام پہ مر جانا شہادت سمجھا جاتا ہے , اور جسکی ترویج و تنظیم کو بہت سارے دیوانے عبادت بھی کہتے ہیں - سیاست کے پنڈت جمہوریت کو عوام کی حکمرانی عوام کے ہاتھوں میں سمجھتے ہیں - مغربی تہذیب کے دلدادہ اسے وقت کی ضرورت سمجھتے ہیں اور اس پر سختی سے قائم بھی ہیں -
ٹھیک ہے کہ جن قوموں کے پاس کوئی نظام نہیں تھا , انہوں نے اسے خود تو اپنا لیا , مگر جن قوموں کے پاس نظام تھا , ان پر اس نظام کو زبردستی لاگو کیوں کیا جا رہا ہے -
اگر ہم اپنے وطن کو دیکھیں کہ اسوقت کتنے ممبران اسمبلی اپنے دین سے واقف ہیں , تو یہ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں رہ جاتی کہ جمہوریت کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ اسلامی ملکوں کی باگ ڈور مذھب سے بیگانہ لوگوں کے ہاتھ میں دے دی جاے , تا کہ بغیر کسی اضافی کوشش کے اپنی ہمنوائی حاصل ہو جاے -
دوم - یہ تجزیہ کیا جاے کہ کتنے ممبران دیانتدار ھیں اور کتنے بد دیانت , تو یہ سمجھنے میں آسانی ہو جاے گی  کہ  کسی ملک کی معیشت کا جنازہ نکالنا ہو تو یہی وہ نظام ہے جس سے بد دیانت لوگوں کا انتخاب آسانی سے کیا جا سکتا ہے -
اگر ہم مزید غور کریں تو بلا شبہ سمجھ سکتے ہیں کہ اسوقت کثیر تعداد نا اہل  لوگوں کی ہے جن کے ہاتھ میں تمام امور حکومت ہیں , یہ بھی صرف جمہوریت سے ممکن ہے کہ عنان حکومت ایسے لوگوں کے ہاتھ میں چلی جاے جن کو شکار کرنا آسان ہو -
جمہوریت کا ایک پھل یہ بھی ہے کہ بے شمار پارٹیوں کو میدان میں اتار دیا جاے تا کہ متفقہ طور پر سوچنے کی صلاحیت ختم ہو جاے اور لوگ سمجھ ہی نہ پائیں کہ انکے حق میں کیا غلط ہے اور کیا ٹھیک  -
ایک خرابی یہ  بھی ہے کہ ہر سیاسی گروپ جب حکومت میں ہو گا تو وہ میرٹ کا خیال کیے بغیر اپنے سیاسی ہمدردوں  کو اہم عہدوں پر لگا دیں گے - جس سے پورا سسٹم اپاہج ہو جایگا -
کیا سب ثمرات ہمیں جمہوریت سے نہیں مل چکے -
آئیے ! غور کریں -
شکریہ
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment