پرانے زمانوں میں ایک ملک کا صرف ایک بادشاہ ھوا کرتا تھا ۔ آج بھی یہ رسم
بیشتر ملکوں میں رائج ھے ۔ مگر ھمارے وطن کی زرخیز سر زمین کو اعزاز حاصل
ھے کہ بے شمار بادشاھوں کا بوجھ اٹھائے ھوئے ھے ۔ اور ھماری قوم کا مثالی
صبر ھے کہ ان بادشاھوں کو اپنی اولاد کا پیٹ کاٹ کر پال رھی ھے ۔ ۔ ۔ کسان
جو وطن کی معیشت کا انتہائی اھم ستون ھوتے ھیں ۔ ان پر پٹواری نام کے
بادشاہ حکمران ھوتے ھیں ۔ یہ اسقدر زور آور ھوتے ھیں کہ کسی بھی کسان کا
ورثہ چھین کر کسی بھی جاگیر دار کو تحفہ کر سکتے ھیں ۔ ۔ ۔ بادشاھوں
کی ایک قسم کو تھانیدار کہا جاتا ھے ۔ یہ بڑے جلالی قسم کے بادشاہ ھوتے
ھیں ۔ ان کی رعایا میں شریف النفس لوگ معتوب رھتے ھیں اور غنڈے ان کے چہیتے
ھوتے ھیں ۔ کسی بھی غنڈے کے جرائم کی تختی کسی بھی شریف کے گلے میں ڈال
سکتے ھیں ۔ ۔ ۔ ان بادشاھوں کی فہرست میں عدالتوں کے جج بھی بہت طاقتور
بادشاہ ھوتے ھیں ان کے دربارمیں کھانسنا بھی ناقابل ضمانت جرم ھو سکتا ھے ۔
انکی ھر صوابدید قانون ھوتی ھے۔ یہاں تک کے چوری کے مجرم کو سزائے موت بھی
دے سکتے ھیں اور قاتل کو با عزت بری کر دینا بھی صوابدید ھو سکتا ھے ۔ ان
بادشاہوں کی ایک لمبی فہرست ھے ۔ پھر کبھی چند دوسرے باشاھوں کا تذکرہ کریں
گے ۔۔
No comments:
Post a Comment