Saturday, 17 June 2017

رب ضرور معاف فرما دے گا

زندگی کی بیاض کھول کر دیکھتا ہوں تو شرمندگی کا احساس ہوتا ہے - کہ میں جب مانگا , جو بھی مانگا , میرے رب نے کسی نہ کسی رنگ میں میری جھولی میں ڈال دیا - اور میں نے اگر ایک سجدہ بھی کیا تو ہاتھ اٹھا کر اپنی ضرورتوں کی لسٹ سامنے رکھ دی - پھر بھی کبھی آواز نہیں آئ کہ اے حرص کے مارے بندے , زرہ حساب تو کر کہ میری نعمتوں کے بدلے میں کتنے سجدے باقی ہیں - میں سوچتا ہوں کہ میرے حساب میں تو میرے رب کا اتنا قرض باقی ہے - کیا چہرہ لے کر جاؤں گا اپنے رب کے سامنے -
یہ سب جو رات دن ایک کر کے اکٹھا کیا - یہ سب رشتے ناطے , جن کی محبت میں فریفتہ تھا - یہ تو مجھے اپنے ہاتھوں سے منوں مٹی کے نیچے دبا دیں گے - اور میری قبر پر چند پھول چڑھا کر حساب برابر کر دیں  گے - میں زندگی دینے والے کے لئے تو چند لمحے بھی وقف نہیں کر سکا - یہ دنیا , جس کی حرص میرا ایمان بنی رہی - یہ تو سب یہاں رہ جاۓ گی - اب میرا رخت سفر کیا ہے -
اب بھی یہی آس ہے کہ میرا بے حساب دینے والا رب ضرور معاف فرما دے گا - ضرور معاف فرما دے گا -

No comments:

Post a Comment