زندگی کی بیاض کھول کر دیکھتا ہوں تو شرمندگی کا احساس ہوتا ہے - کہ میں جب
مانگا , جو بھی مانگا , میرے رب نے کسی نہ کسی رنگ میں میری جھولی میں ڈال
دیا - اور میں نے اگر ایک سجدہ بھی کیا تو ہاتھ اٹھا کر اپنی ضرورتوں کی
لسٹ سامنے رکھ دی - پھر بھی کبھی آواز نہیں آئ کہ اے حرص کے مارے بندے ,
زرہ حساب تو کر کہ میری نعمتوں کے بدلے میں کتنے سجدے باقی ہیں - میں سوچتا
ہوں کہ میرے حساب میں تو میرے رب کا اتنا قرض باقی ہے - کیا چہرہ لے کر
جاؤں گا اپنے رب کے سامنے -
یہ سب جو رات دن ایک کر کے اکٹھا کیا - یہ سب رشتے ناطے , جن کی محبت میں فریفتہ تھا - یہ تو مجھے اپنے ہاتھوں سے منوں مٹی کے نیچے دبا دیں گے - اور میری قبر پر چند پھول چڑھا کر حساب برابر کر دیں گے - میں زندگی دینے والے کے لئے تو چند لمحے بھی وقف نہیں کر سکا - یہ دنیا , جس کی حرص میرا ایمان بنی رہی - یہ تو سب یہاں رہ جاۓ گی - اب میرا رخت سفر کیا ہے -
اب بھی یہی آس ہے کہ میرا بے حساب دینے والا رب ضرور معاف فرما دے گا - ضرور معاف فرما دے گا -
یہ سب جو رات دن ایک کر کے اکٹھا کیا - یہ سب رشتے ناطے , جن کی محبت میں فریفتہ تھا - یہ تو مجھے اپنے ہاتھوں سے منوں مٹی کے نیچے دبا دیں گے - اور میری قبر پر چند پھول چڑھا کر حساب برابر کر دیں گے - میں زندگی دینے والے کے لئے تو چند لمحے بھی وقف نہیں کر سکا - یہ دنیا , جس کی حرص میرا ایمان بنی رہی - یہ تو سب یہاں رہ جاۓ گی - اب میرا رخت سفر کیا ہے -
اب بھی یہی آس ہے کہ میرا بے حساب دینے والا رب ضرور معاف فرما دے گا - ضرور معاف فرما دے گا -
No comments:
Post a Comment