Thursday, 15 June 2017

الله نے ہمیں کیا کچھ نہیں دیا

الله نے ہمیں کیا کچھ نہیں دیا - ہاتھ کی انگلیوں کی طرح دریا , سونا اگلنے والی زرخیز زمین , معدنیات کے خزانوں سے بھرے آسمان سے باتیں کرتے ہوۓ پہاڑ , محنتی اور جفاکش کسان , بہادر افواج , جدید ترین ٹیکنولوجی کے ماہرین , ہم الخالد ٹینک , تھنڈر جیٹ , نیوکلیر سامان حرب کے خالق لوگ "
" ہم اپنے مقام سے آگاہ ہی نہیں , ہم دنیا کی بہترین اقوام میں سے ایک ہیں "
یہ وہ الفاظ تھے , جو میرے کانوں میں اکثر سرسراتے تھے - یہ ایک نوجوان سفارتکار کے تھے - جذبہ اور قوم سے محبت کا موجزن سمندر اسکے اندر کی کیفیت کا مظہر تھا - یہ سب وہ حقائق تھے , جن کو جھٹلانا ممکن نہیں تھا - ان الفاظ کی تائید میں بہت ساری تالیاں , بہت ساری واہ واہ میرے یقین کے لئے مژدہ نو تھا - میرا سارا زعم ریت کا محل ثابت ہوا , جب ایئر پورٹ پر میرے تمام ہموطنوں کو ایک الگ قطار میں کھڑا کر دیا گیا - اور ان سب کو جانے دیا گیا , جن کے پاس بیان کردہ میں کچھ بھی نہیں تھا - میں نے اپنے ساتھ والے سے پوچھا -
" بیٹا ! ہمارے ساتھ یہ سلوک کیوں "
میں نے وہ ساری نعمتیں دھرا دیں , جو ہمیں نصیب ہیں , ایٹمی طاقت کا رعب بھی ڈالا - وہ ہنسا -
" بابا جی ! جن دریاؤں کا پانی دوسرا روک سکے , وہ دریا اپنے نہیں ہوتے - جن کھیتوں سے کسان کو پیٹ بھر کے کھانا نہ ملے , ان زمینوں کی زرخیزی مشکوک ہوتی ہے - جن پہاڑوں سے موتی نکالنے کی اجازت دوسروں سے لینی پڑے وہ پہاڑ اپنے نہیں ہوتے - جس گھر کا سربراہ گھر چلانے کے لئے دوسرے دروازوں پہ قرض مانگنے لگے , وہ گھر با عزت نہیں رہ جاتا - یہ وہ عزت ہے جو ہم لوگوں کو ملتی ہے "
بات اس جوان کی بھی ٹھیک ہے , بات نوجوان سفارتکار کی بھی -
میں تو فیصلہ نہیں کر سکا , ہو سکتا ہے آپ کر سکیں.
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment