Tuesday, 8 January 2019

شادی معاشرتی فعل

" شادی ، معاشرتی فعل "
کثرت ازدواج کی اجازت ، معاشرے سے بے حیائی روکنے کا ایک فلسفہ ہے ۔ جسے اللہ کے نبی صل اللہ علیہ وسلم نے عملی طور پر اپنا کر ہمیں اس فلسفے کے نتائج سے اگاہ فرمایا ۔ اسی پر صحابہ کبار بھی عمل کرتے رہے ۔ اس کے پس منظر میں عربوں کی شہوت رانی تھی ۔ جس کے تحت معاشرہ پوری غلاظت سے متعفن تھا ۔ عورت ایک کھلونا تھی اور عیاش طبع کے لوگ کھلاڑی ۔ عورت کی تعظیم یہی تھی کہ اسے ایک محفوظ اور پاکیزہ ماحول دیا جائے ۔
آپ ( ص) کی تمام شادیوں میں کوئی نہ کوئی فلسفہ تھا ۔ کوئی نہ کوئی درس تھا ۔ کوئی نہ کوئی ہدایت تھی ۔
آج سیاست کے کرتا دھرتا ، اسے اپنی شہوت رانی کی غرض سے استعمال کر رہے ہیں ۔ آزدانہ اختلاط اور اسی دوران تعلقات کا استوار کر لینا ، یہ عمل یکے بعد دیگرے کرتے رہنا ، نہ کوئی فلسفہ ہے اور نہ کوئی ہدایت کی راہ ۔ اسے پاکیزگی سے مشروط بھی نہیں کیا جا سکتا ۔ نکاح تو اعلان ہے ازدواج کے رشتے کا ۔ اسے پاکیزہ رہنا چاہئیے ۔ اسے تماشا نہیں بننا چاہئے ۔ عورت کی عزت نفس زندہ رہنی چاہئے اور اسے معاشرتی اشتہار نہیں بننا چاہئے ۔ نکاح رد ہے زنا کا ۔ اور حکم ہے کہ نکاح پاکیزگی کی نظر سے کیا جائے شہوت رانی کیلئے نہیں ۔ پاکیزگی کی نظر سے کیا جانے والا نکاح ایک مختصر مدت کیلئے نہیں ہوتا ، یہ وعدہ عمر کی طوالت کا ہوتا ہے ۔ اگر کوئی ٹھوس وجوہ نہ ہوں تو طلاق بد ترین فعل تصور کیا جاتا ہے ۔
یہاں کسی سیاسی نکاح اور طلاق کا قطعی تعلق نہیں ۔ لکھنے کا محض مقصد یہ ہے کہ ہمیں اسلامی اقدار کو اسکی روح کے ساتھ سمجھنا چاہئے ۔ یہ وہ معاشرتی معاملات ہیں ، جنہیں ذاتی کہہ کر ٹالنا درست سمت نہیں ۔
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment