Monday, 7 January 2019

سپریم لوگوں کی کورٹ

" سپریم لوگوں کی کورٹ "
سپریم کورٹ ایک ادارے کا نام ہے ، جس کے ذمے ان پیچیدہ مقدمات کے حتمی فیصلے کرنا ہے ، جو فیصلے دوسری عدالتوں کی سوچ سمجھ میں نہیں آتے ، یا جن فیصلوں پر متاثرین کو حتمی رائے بہتر معلوم ہوتی ہے وہ  یہاں دروازہ کھٹکھٹا سکتے ہیں ۔  مگر یہاں تک اسی کو رسائی ممکن ہے جو وکیل کو کروڑ دو کروڑ فیس دے سکے ۔ یہ ادارہ غریبوں کیلئے نہیں ہے ۔قانون کی پیچیدگیوں کو گرہ در گرہ کھول کر رکھ دینا ، صرف سپریم کورٹ کی اہلیت ہے ۔ یہ کام سپریم کورٹ کی وسیع و عالیشان عمارت نہیں کرتی بلکہ وہاں بیٹھنے والے ذہن کرتے ہیں ۔ جو عدل کی سیڑھیاں چڑھتے چڑھتے یہاں پہنچتے ہیں ۔ یہ  افراد پوری قوم کو کھنگالنے کے بعد نکلنے والی کریم ہوتے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں ، جن کے سامنے کھانسنا بھی " پانچ چھ ماہ " کی قید بن سکتا ہے ۔ گویا بہت قیمتی لوگ ہیں ، بہت متبرک لوگ  ہیں اور بہت حساس طبیعت کے لوگ  ہیں ۔ چیف جسٹس ، جسے پرانے لوگ " قاضی القضاة " کہا کرتے تھے ۔ بہت باعمل اور قانون کا پابند شخص بنایا جاتا ہے ۔ اسے بنانے والا " حکمران " ہوتا ہے ، جو خود ایک نمبر کا لٹیرا اور قانون شکن بھی ہو سکتا ہے ۔  اسلئے قاضی القضاة کا باکردار ہونا مشکوک ہو جاتا ہے ۔
اس تمہید کا مطلب ، یہ تھا کہ ہم اسے معمولی نہ سمجھ لیں ۔ یہ قانون کی تشریح کرنے والی اتھارٹی ہے ۔
پچھلے ستر سال میں ، جتنا قانون کا کھلواڑ قاضی القضاة کرتے آئے ہیں اور جتنا پچھلے دو قاضی القضاة نے کیا ہے ، ایک عام با شعور شخص پریشان ہو کر رہ گیا ہے کہ اس سپریم کورٹ کی سیاستدانوں کو ضرورت ہے ، وزیروں کو ضرورت ہے یا عوام اور ملک کو ۔ کچھ پتہ ہی نہیں چلتا کہ کونسا فیصلہ قانون کے مطابق ہوا ہے اور کونسا چیف کی اپنی مرضی سے ۔ عدالت کا کام ہوتا ہے کہ ہر شہری کے بنیادی حقوق کا خیال رکھے ۔ کسی کی عزت نفس مجروح کرنے کا اختیار کسی عدالت کو بھی نہیں ۔ مجرم کیلئے سزا مقرر ہے ، اسکی عدالت کے اندر یا میڈیا پہ " شلوار " اتارنے کا حق اور اختیار قاضی القضاة کے پاس بھی نہیں  ہوتا ۔ مگر اب کچھ رواج ایسا چل نکلا کہ سپریم کورٹ ایک سیاسی ادارے کا کام کرتی نظر آتی ہے ۔ پہلے فوج اور اب عدلیہ ، دو ایسی طاقتیں سامنے آگئی ہیں جو ہر وقت حکمران کے سر پر لٹکتی تلوار ہیں ۔ قوم اس صورت میں ایک ہیجان کا شکار ہوتی نظر آتی ہے اور مستقبل پریشانیوں سے مزین ہوتا دکھائی دیتا ہے ۔ اب ہر ادارہ ، چیف جسٹس کی قلم کی نوک پر ہے ،  جب چاہے ، جس کو چاہے ، ہاتھ بندھے طلب کر لے ۔ جسکا چاہے دروازہ توڑ کر کتابیں اٹھا لائے ۔ آئین ، قانون اور دستور بے معنی سی باتیں ہو گئی ہیں ۔ کس کی کیا حدود ہیں ، کیا اختیارات ہیں ، اب قاضی القضاة کی صوابدید پر ہیں ۔
الامان الحفیظ
آزاد ھاشمی
٧ جنوری ٢٠١٩

No comments:

Post a Comment