Tuesday, 8 January 2019

اب دیپ جلائے رکھتی ہوں

اب دیپ جلائے رکھتی ہوں
آنگن کو سجائے رکھتی ہوں
کس دیس گئے ہو پیا جی تم
کب لوٹ کے گھر کو آو گے
ان بکھرے بکھرے بالوں میں
کب گجرے ،  پھول سجاو گے 
کنگن ، ہار وہ پھولوں کے
جووعدہ کر کے گئے تھے
کب لیکر وہ تم آوگے
کب میرے ہاتھ سجاو گے
کب میرے  گلے پہناو گے
نم آنکھیں بھی اب سوکھ گئیں
اب سارے خواب ادھورے ہیں
اب ساری آسیں ٹوٹ گئیں
کچھ تم سے سننا چاہتی ہوں
کچھ تم سے کہنا چاہتی ہوں
گر لوٹ نہ آئے ساجن جی
میں تنہا رہ نہ پاوں گی
کیا کرنا سونی دنیا میں
کیا سجے گا آنگن تیرے بن
کیا کرنا کھلتے پھولوں کا
کیا سوچنا ساون جھولوں کا
اب  لوٹ نہ آئے تو سمجھوں گی
سب وعدے تیرے جھوٹے تھے
سب پریت کی باتیں جھوٹی تھیں
تم جھوٹے تھے جو چھوڑ چلے
اب در کو دیکھتی رہتی ہوں
کب دستک در پہ دو گے تم
کب دوڑ کے در کو کھولوں گی
جانتی ہو تم نہیں آو گے
تم جھوٹے تھے تم جھوٹے تھے
آزاد ھاشمی
٤ جنوری ٢٠١٩

No comments:

Post a Comment