اب دیپ جلائے رکھتی ہوں
آنگن کو سجائے رکھتی ہوں
کس دیس گئے ہو پیا جی تم
کب لوٹ کے گھر کو آو گے
ان بکھرے بکھرے بالوں میں
کب گجرے ، پھول سجاو گے
کنگن ، ہار وہ پھولوں کے
جووعدہ کر کے گئے تھے
کب لیکر وہ تم آوگے
کب میرے ہاتھ سجاو گے
کب میرے گلے پہناو گے
نم آنکھیں بھی اب سوکھ گئیں
اب سارے خواب ادھورے ہیں
اب ساری آسیں ٹوٹ گئیں
کچھ تم سے سننا چاہتی ہوں
کچھ تم سے کہنا چاہتی ہوں
گر لوٹ نہ آئے ساجن جی
میں تنہا رہ نہ پاوں گی
کیا کرنا سونی دنیا میں
کیا سجے گا آنگن تیرے بن
کیا کرنا کھلتے پھولوں کا
کیا سوچنا ساون جھولوں کا
اب لوٹ نہ آئے تو سمجھوں گی
سب وعدے تیرے جھوٹے تھے
سب پریت کی باتیں جھوٹی تھیں
تم جھوٹے تھے جو چھوڑ چلے
اب در کو دیکھتی رہتی ہوں
کب دستک در پہ دو گے تم
کب دوڑ کے در کو کھولوں گی
جانتی ہو تم نہیں آو گے
تم جھوٹے تھے تم جھوٹے تھے
آزاد ھاشمی
٤ جنوری ٢٠١٩
Tuesday, 8 January 2019
اب دیپ جلائے رکھتی ہوں
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment