Sunday, 6 January 2019

اللہ کی پکڑ

"اللہ کی پکڑ "
ایک مسلمان دوست جو جمہوریت کی شہادت کے لئے بھی تیار رہتے ہیں ۔ جو یہ بھی کہنے میں عار نہیں سمجھتے کہ یورپ کی ساری ترقی کا راز ہی جمہوریت کی آشیر باد سے ہے ۔ جو اس تبلیغی مہم کو بھی اپنی بقا کا راستہ سمجھتے ہیں کہ چھوڑو اسلام کی باتیں ۔ یہ تو ناکام نظام ہے ۔ اسکا ثبوت بھی دنیا میں مسلمانوں کی  رسوائی کو سمجھتے ہیں ۔ محترم کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ انگریزی پوری فراوانی سے بول لیتے ہیں ۔ بہت سارے گانے بھی گا لیتے ہیں ۔ غزل بھی گاتے ہیں ۔ اپنی وراثت میں ملی جائیداد پر اتراتے بھی ہیں ۔  اکثر کہتے ہیں کہ اسلام پرانے زمانوں کی بات ہے ۔ یہ نمازیں ، روزے ، حج  ، سب بے جا مصروفیات ہیں ۔  بچوں کو قران پڑھانے سے کیا ملے گا ، زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گے ۔ آج کے علوم پڑھاو ، یہی ترقی کا راستہ ہے ۔ 
سنا ہے ایسے لوگوں کی اصلاح کی کوشش بھی بے سود ہوتی ہے ۔
سنا ہے اگر کوئی اللہ کے نام پر بھیک مانگتا ہے تو صاحب طنزیہ فرماتے ہیں ۔
تیرے اللہ کو کیا ضرورت پڑ گئی 
سرکشی کی حد ایک روز اپنے انجام کو ضرور پہنچتی ہے ۔ ایک روز اللہ کی قدرت پر یقین ضرور آتا ہے ۔ آنکھیں بھی پوری زندگی کے آنسو بہانے لگتی ہیں ۔ دنیا کی آسائشیں کاٹنے کو دوڑتی ہیں ۔ گنگناتے ہوئے اہل خانہ بھی برے لگتے ہیں ۔  پشیمانی ماتھے کا پسینہ سوکھنے نہیں دیتی ۔ خلاوں کی اڑان کرنے والے خاک چاٹنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔ سائنس کی ترقی میں حماقتیں دکھائی دینے لگتی ہیں ۔
آج موصوف کی کچھ یہی کیفیت ہے ، ہر لمحہ کینسر کی درد موت کی اذیت سے بد تر ہے ۔  پوری سائنس میں ، یورپ کی ترقی میں ایسی دوائی نہیں جو اسے اس درد سے بچا لے ۔ جو زندگی کا ایک لمحہ بڑھا دے ۔  ڈاکٹر بھی یہی مشورہ دینے لگتے ہیں ۔
دعا کرو ، اس سے صرف اللہ نجات دے سکتا ہے ۔
آج موصوف کو یہی کہا جاتا ہے ۔ سارے سگے اور خونی رشتے ، دور دور ہیں ۔ یہ یورپ کی روایت ہے ۔ اسلام کی روایت سے دوری کا سبق مل رہا ہے ۔ 
کتنا اچھا ہو ، ہم پکڑ سے پہلے توبہ  کی  طرف لوٹ جائیں ۔
شکریہ
ازاد ہاشمی
6 جنوری 2017

No comments:

Post a Comment