"مال و زر کا دکھاوا فساد ہے ( 9 )"
سورہ القصص میں قارون کیلئے حکم اللہ تعالیٰ ہے ۔
" ایک بار اس کی قوم نے کہا کہ اترا مت اللہ تعالیٰ اترانے والوں سے محبت نہیں رکھتا۔اور جو کچھ تجھے اللہ تعالیٰ نے دے رکھا ہے اس میں سے آخرت کے گھر کی تلاش بھی رکھ اور اپنے دنیاوی حصے کو نہ بھول جا جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے تو بھی اچھا سلوک کر اور ملک میں فساد کا خواہاں نہ ہو یقین مان کہ اللہ مفسدوں کو ناپسند رکھتا ہے"
قرآن پاک میں انسان کی اصلاح کیلئے ایک ایک پہلو کو مد نظر رکھا گیا ۔ کسی بھی شخص کا وہ پہلو ، جیسے وہ اپنے رتبے ، مال وزر کو اسطرح ظاہر کرے کہ دوسرے انسانوں کو آزار ملے ، قرآن نے اسے بھی فساد قرار دیا ،کیونکہ اس سے دوسرے انسانوں میں دو منفی جذبات جنم لے سکتے ہیں جو معاشرتی زندگی کیلئے برائی بن سکتے ہیں ۔ اول عام انسان کے اندر حسد کی آگ سلگ سکتی ہے ، دوم انسان وہی کچھ حاصل کرنے کیلئے منفی سرگرمی کا شکار ہو سکتا ہے ۔ گویا امراء کا اپنی دولت کی نمائش کرنا بھی فساد پیدا کرتا ہے ۔
آزاد ھاشمی
٧ جنوری ٢٠١٩
Monday, 7 January 2019
مال و زر کا دکھاوا فساد ہے (9)
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment