" قید با مشقت "
عجیب سی اداسی اسکی آنکھوں اور چہرے پر عیاں تھی ۔ میں نے بابا جی سے طویل رفاقت میں انہیں کبھی اس حال میں نہیں دیکھا ۔ آج نہ وہ طمانت تھی اور نہ وہ حوصلہ نظر آرہا تھا ۔ آزردگی اور مایوسی کی کیفیت نے میرا دل بھی بھوجل کر دیا ۔
" کیا ہوا بزرگو ! آج آپ بہت اداس نظر آ رہے ہیں "
بابا جی کا چولہا بھی بند تھا اور پکوڑوں کا سامان بھی تیار نہیں تھا ۔
" بیٹا ! ماضی میں جھانک بیٹھا ہوں ۔ اچھے دن یاد آگئے تھے ۔ انسان کتنا بھی حوصلہ کر لے ایک دن تھکن کا احساس ضرور ہوتا ہے ۔ تھک گیا ہوں بیٹا "
بابا جی کی آنکھیں بوجھل ہو گئیں ۔
" بہت سال پہلے میں نے ایک جرم کیا تھا ۔ پکڑنے والے نے عین موقع پر پکڑ لیا ۔ عین اسی وقت ایک لمبی سزا سنا دی ۔ سزا بھی " سزائے مشقت " ۔
میں ہکا بکا بابا جی کا چہرہ دیکھ رہا تھا ، اتنے سالوں میں ایک بار بھی احساس نہیں ہوا کہ وہ کوئی جرم بھی کر سکتا ہے ۔
" میری سزا کی جوبھی ممکن اپیل تھی ، میں نے کردی ۔ مگر سزا برقرار رہی ۔ آج تیس سال ہوگئے ہیں ۔ میں آج بھی اسی سزا کی مشقت کر رہا ہوں ۔ یہ آگ پر کھڑا رہنے کا کوئی شوق نہیں ہے ، بس سزا ہے جو بھگت رہا ہوں ۔ انسان جب خوشحال ہوتا ہے تو سمجھ بیٹھتا ہے کہ جو کچھ اسے ملا ہے اسکی محنت کا ثمر ہے ۔ اترانے لگتا ہے ۔ شیخیاں مارتا ہے ۔ میں نے بھی یہی جرم کیا تھا ۔ بس اللہ نے پکڑ لیا اور آج میں پکوڑے بناتا ہوں تو دو وقت کی روٹی ملتی ہے ۔ میری ساری قابلیت صرف اتنی تھی ، میری ساری تعلیم کنویں میں چلی گئی ۔ سمجھ بیٹھا تھا کہ میں نے دنیا کے سارے تعلیمی معیار عبور کر لئے ہیں ۔ اپنی قابلیت پر گھمنڈ کر بیٹھا تھا ۔ بس سزا ہوگئی اور آج اسی سزا کی مشقت پر کھڑا ہوں "
باباجی نے آنسو صاف کئے ۔ ایک ٹھنڈی سانس لی اور پھر بولے ۔
" بیٹا ! تکبر سے بڑا جرم کوئی نہیں ۔ یہ وہ جرم ہے جسے مالک کائنات کبھی معاف نہیں کرتا ۔ سزا ضرور ہوتی ہے ۔ مجھے یہی سزا ملی ہے ۔ اکیلے میں بہت روتا ہوں مگر ۔۔ "
بابا جی کے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا ۔ آنسو آنکھوں سے گالوں پر اور پھر دامن پر تسلسل سے گر رہے تھے ۔
" بہت رویا ہوں ۔ مگر اللہ نہیں دیکھتا ۔ آج دل گبھرا گیا تو تیرے سامنے بھی رویا ہوں ۔ گواہی دینا بیٹا کہ میں اپنے جرم پر پشیمان ہوں ، گواہی ضرور دینا بیٹا "
میں کیا بولتا ، میں تو خود یہ جرم دن میں کئی بار کرتا ہوں ۔ اگر اللہ نے مجھے بھی پکڑ لیا تو ۔۔۔۔ میرے بھی آنسو بہہ نکلے ۔
آزاد ھاشمی
١٢ جنوری ٢٠١٩
Friday, 11 January 2019
قید با مشقت
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment