Thursday, 4 January 2018

شائد کہ اب نیا سال ہوگا

"شاید کہ اب نیا سال ہو گا "
سوچتا رہتا ہوں ,  لوگ کیوں کہتے ہیں کہ نیا سال آ گیا . جب سے ہوش سنبھالا ایک جیسے ہی دن ہیں ایک جیسی ہی راتیں . بارش بھی ویسی ہی برستی ہے اور دھوپ بھی اسی طرح سے نکلتی ہے . کبھی کچھ نیا نہیں ہوا . تاریخ تو روز بدلتی ہے اور دن اور رات بھی روز بدلتے رہتے ہیں .
میں انتظار کرتا رہتا ہوں کہ کبھی تو نیا دن آئے , کبھی تو نئے ماہ و سال دیکھوں . کبھی تو ایسا ہو کہ جب صبح اٹھوں تو امن ہی امن دیکھوں , کوئی چہرہ پژمردہ نظر نہ آئے . ہر ہاتھ میں محبت کے پھول ہوں . ہر آنکھ حیا سے جھکی نظر آئے . ہر کوئی عداوت سے نالاں دیکھوں .
شاید کہ اب کے , جب سال کی تاریخ بدلے , ظلم کرنے والے ہمدرد و مونس بن جائیں . نہ کوئی دولت کے نشے میں دھت ہو اور نہ کوئی غربت کے آزار سے گذرے . لوگ اپنی خوشیاں دے کر دکھ سمیٹتے نظر آئیں . اخوت کی ایسی جوت جاگ جائے کہ کینہ پروری کی ساری خلیجیں سوکھ جائیں . میری ساری متاع پر میرے بھائی کا حق ہو جائے اور منافقت کو لوگ بھول جائیں . انسانیت کی تباہی کا سامان کرنے والے انسان کی فکر میں لگ جائیں . دوسرے کی راہ کے کانٹے اٹھانے میں لوگ سبقت لینے لگیں . شیطان سوچنے لگے کہ ابن آدم اس سے بیزار کیوں ہو گیا .
شاید کہ اس سال , ایسا ہی نیا سال ہو . پھر میں بھی نئے سال کی مبارک دوں اور مبارکیں وصول کرتا پھروں . کاش کہ میری اور آپکی زندگی میں نیا سال آئے , نئی صبح ہو , نئے ارادے ہوں , نئی سوچ ہو اور بے نام سی راحت ملے .
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment