Saturday, 6 January 2018

مصلحت اور ایمان

" مصلحت اور ایمان "
اللہ پاک نے جتنے بھی انبیاء مبعوث فرمائے , سب کا ایک ہی مدعا تھا کہ اسوقت کے انسانوں کو ظلمت , گمراہی اور برائی سے نکال کر فلاح کی طرف لایا جائے . تمام انبیاء کی  ایک مخصوص ذمہ داری تھی . انبیاء کا عمومی ٹکراو مقتدر قوتوں سے رہا ہے . اکثریت ہدایت سے نا بلد ہوتی تھی . کوئی بھی نبی یا رسول ایسا نہیں گذرا جسے شدت کے ساتھ روکنے کی کوشش نہیں ہوئی . تاریخی حوالہ جات میں بالکل عیاں ہے کہ انبیاء نے ہدایت کو پھیلانے اور گمراہی کو روکنے میں کبھی مصلحت کا راستہ منتخب نہیں کیا .
اللہ کے حبیب صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چونکہ پوری کائنات کی اصلاح کی ذمہ داری سونپی گئی جو لا محدود وقت کیلئے ہے . اسلئے ایمان کی پختگی پر زیادہ توجہ دی گئی . ایسی بلیغ و مبین تعلیم دی گئی , قران پاک میں ایک ایک بات کو کھول کھول کر واضع کیا گیا کہ کوئی سوال باقی نہ رہ جائے . آپ کی تمام زندگی , تمام تعلیمات , تمام اسوہ حسنہ اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ آپ (ص)  نے ایمان پر قائم رہنے کو مصلحت پر ترجیح دی . ہم نے ایمان چھوڑ دیا اور ہر معاملے میں مصلحت کا سہارا ڈھونڈھنے لگے . اللہ کی ذات پر سے یقین اٹھا لیا اور دنیا کے خداوں کو ماننا شروع کر دیا . اللہ کی طاقت کو فراموش کر دیا اور دنیا کے فرعونوں کے سامنے گٹنے ٹیک دئیے . اگر ہم ایمان سے جڑے رہتے تو آج جس رسوائی سے دوچار ہیں , کبھی نہ ہوتے . ایمان اور مصلحت دو متضاد راستے ہیں , مگر ہم سوچے بیٹھے ہیں , کہ کہیں نہ کہیں ایک ہو جائیں گے . حتی کہ ہمارے علماء بھی مصلحت خیز ہو گئے . دین سے ہٹ کے فیصلوں پر فتوے دینے لگے . جسکی بد ترین مثال جمہوریت کی چھتری تلے اکٹھا ہونا ہے . یہ  بھی اقتدار حاصل کرنے کیلئے مصلحت کا راستہ ہے .
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment