" علی کرم اللہ وجہہ کی شجاعت "
عمر کی پختگی کے ساتھ قدموں میں استقامت آ جانا کئی وجہ سے ممکن ہو جاتا ہے . شعور کئی ایک مصائب سے ٹکرانے کا از خود حوصلہ دے دیتا ہے . اسے بھی بہادری اور شجاعت کہہ لینا موزوں ہے .
جب اللہ کے رسول صل اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوا کہ اب آپ اپنے خاندان اور اقرباء میں اللہ کی توحید بیان کرنا شروع کریں . تو آپ نے حکم ربی کے تحت بنو ہاشم کو بلایا . پیشتر اس سے کہ مدعا بیان ہوتا , ابولہب نے حسب عادت بے تکی باتیں شروع کردیں . جس وجہ سے مجلس برخاست کرنا پڑی . اگلے دن پھر آپ نے بنو ہاشم کو جمع کیا اور ان سے پوچھا کہ کیا مجھے کبھی جھوٹ بولتے کسی نے سنا . تو سب نے بیک زبان اقرار کیا .
" آپ سے کبھی کوئی جھوٹ بات نہیں سنی "
آپکی صداقت مسلمہ تھی , دشمنی کتنی بھی گہری کیوں نہ ہو , آپ کی صداقت پہ کبھی کوئی سوال نہیں اٹھا .
یہ سن کر آپ نے مدعا بیان فرمایا , اور سوال کیا کہ اللہ کی وحدانیت کیلئے اور معاشرتی برائیوں کو روکنے پر کون کون میرا ساتھ دے گا . جو سب سے پہلے آواز آئی وہ چند سال کے , بلوغت سے بہت دور بچے کی تھی . یہ وہ بچہ جو اسلام کے پیغام کو پہلے سے قبول کر چکا تھا . یہ اس بچے کی تربیت کا اظہار بھی تھا جو اس داعی حق کے سائے میں ہو رہی تھی . یہ علی ابن ابوطالب تھے . جرات اور بہادری کا اظہار اس بات کا بین ثبوت تھا کہ یہ کسی شعور , کسی تجربے , کسی غرض کے تحت نہیں بلکہ اللہ کی عطا کردہ شجاعت کا ثبوت تھی . بنو ہاشم کے تمام اکابرین پر اس ایک اعلان کی برتری نے علی کرم اللہ وجہہ کی اہمیت سنگ میل بنا دی . ابوطالب بیٹے کی سبقت پر حیران بھی تھے , فخر بھی تھا اور پرسکون بھی کہ اب آپ صل اللہ علیہ وسلم کی ہر مشکل میں انکا بیٹا ساتھ کھڑا رہے گا . تاریخ نے ثابت کیا کہ کٹھن سے کٹھن معرکے میں بھی اس علی کرم اللہ وجہہ نے اللہ کے رسول صل اللہ علیہ وسلم کو فکر مند نہ ہونے دیا . حتی کہ یہ وعدہ اپنی سلب میں منتقل کر دیا , جسے علی زادوں نے نبھا کے دکھا دیا .
ازاد ھاشمی
Thursday, 4 January 2018
علی کرم اللہ وجہہ کی شجاعت
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment