Thursday, 4 January 2018

کسء کے بیٹے کسی کے بھائی

" کسی کے بیٹے , کسی کے بھائی "
عجیب سی رسم چل نکلی ہے کہ پولیس کے اہلکاروں کو سڑکوں پر بدقماش رئیس زادے , سیاسی غنڈے اور حرام کی کمائی پر پلنے والے نو دولتیئے گاڑیاں چڑھا دیتے ہیں . پولیس رشوت اور ناجائز طریقوں سے غریبوں کو تنگ کرتی ہے . یہ درست ہے . مگر کیوں کرتی ہے , اسکے محرکات کیا ہیں اور اسکی پشت پناہی کون کرتا ہے . اس پر نہ کبھی توجہ دی گئی اور نہ کوئی مثبت لائحہ عمل اختیار کیا گیا . میری نظر میں اس ساری خرابی کی پشت پر اعلی افسران ہیں . سیاستدان ہیں , راشی عدالتیں ہیں اور اس سب سے بڑھ کر انکی ضروریات زندگی کے مطابق انکی حلال آمدن  کا فقدان ہے . بد دیانتی اور کرپشن پر , چوری اور فراڈ پر اقتدار کے بڑے بڑے مشغول ہو جائیں تو ایک غریب اہلکار کو تقویت نہیں ملے گی تو کیا تعجب ہے . اس برائی کی بحث سے ہٹ کر سوچا جائے , تو کیاسڑک پہ راستے کی آسانیاں فراہم کرنے والے کو مار دینا انصاف ہے . وہ بیچارہ بھی معصوم بچوں کا باپ ہو گا , کسی ماں کا جگر گوشہ ہو گا , کسی بہن کا بھائی ہو گا . کسی سہاگن کا سہاگ ہو گا . کیا خبر بے چارہ کرپشن میں ملوث تھا بھی کہ نہیں . چوبیس گھنٹے کا ملازم , چلچلاتی دھوپ میں کھڑا ہو کر فرائض ادا کرنے والا , دیگر محکموں کے دفتری بابووں سے بڑا راشی تو نہیں ہوتا . اسکی خدمات کے اعتراف پر آنکھیں بند کر لینا بھی تو کرپشن ہے . انکی حفاظت , انکی ضروریات کا خیال رکھنا معاشرے کی ذمہ داری کیوں نہیں مانی جاتی . فوج کا سپاہی اور پولیس کا سپاہی  ایک جیسی عزت کا حقدار کیوں نہیں . دونوں کے احترام میں تفاوت کیوں . اس سپاہی کو بھی عزت کی روٹی دو , عزت کا مقام دو , اسکو بھی وہی مراعات دو , ہو سکتا ہے وہ رشوت لینے کو برائی سمجھنے لگے . گاڑیوں کے نیچے کچل کر اچھائی کی امید خام خیالی ہے . مقتدر لوگوں کو سخت نوٹس لینا ہو گا . اور پولیس کے سپاہی کو بھی.محافظ ماننا ہوگا .
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment