Friday, 5 January 2018

نماز کا اہتمام

" نماز کا اہتمام "
کائنات میں واحد حاکم  , اللہ کی ذات ہے , جس کی حاکمیت کا دائرہ لا محدود ہے . جو شجر و حجر کا بھی حاکم ہے , آسمان کی وسعت اور سمندروں کی گہرائی پر بھی حاکم ہے . کائنات کا پورا نظام اسکے حکم کے تابع تھا , تابع ہے اور رہے گا . نماز اصل میں اس حاکم مطلق کے ہاں پیش ہونے کا عمل ہے . اسکی ذات کی عظمت ہے کہ ہمیں ہر حال میں اپنے سامنے قبول فرما لیتا ہے . حالانکہ دنیا کے چھوٹے سے چھوٹے حکمران بھی اپنے سامنے پیش ہونے والے سے مخصوص آداب کا تقاضا کرتے ہیں . ایک جج بھی عدالت کے احترام کے اصول مانگتا ہے کہ کیسے پیش ہوا جائے . ایک معمولی افسر بھی اپنی تعظیم کا پابند کرتا ہے . ہم سب کا خیال رکھتے ہیں . مگر اللہ کے ہاں پیش ہوتے وقت اہتمام پر فکر مند نہیں ہوتے . کیا خوب ہو کہ جب ہم اسکے ہاں حاضر ہونے کا قصد کریں تو اسکی شان کے مطابق اہتمام بھی کریں . وضو میں انہماک ہو , طہارت کا حتمی خیال رکھیں , لباس میں خصوصیت ہو کہ دیکھنے والا سمجھ جائے کہ ہم اللہ کی پاک ذات کے سامنے , رکوع و سجود کیلئے جا رہے ہوں . دل میں اللہ کی محبت اور حواس پہ اسکا خوف طاری ہو . جب پیش ہو جائیں تو دل اور دماغ کی پوری رغبت ہو . دنیا کی خواہشات غالب نہ ہوں . یہ وہ رکوع ہو گا , وہ قیام ہو گا اور وہ سجدہ ہو گا . جو قبولیت پائے گا . اگر ایک سجدہ بھی ایسا ہو جائے تو جنت بھی ملے گی اور اللہ کی رضا بھی . ایسی نماز کا اہتمام کرنے کی ہر ممکن کوشش ہماری فلاح ہے . جلدی جلدی کا وضو , رکوع و سجود اللہ کی شان کے مطابق نہیں. ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment