" زینب کے قاتل "
حضرت علی ؑ کا فرمان ہے
" جس مقتول کے قاتل نامعلوم ہوں ، اسکا قاتل حاکم وقت ہوتا ہے "
زینب کئی دن غائب رہی ، گویا اغوا ہوئی ، نہ پولیس ڈھونڈھ سکی نہ باخبر ایجینسیوں کو علم ہوا ۔ بے حس محلے دار ، رشتے دار متحرک ہو جاتے تو شاید قسمت کی ماری معصوم اس بر بریت سے بچ جاتی ۔ علاقے کا ایم این اے ، ایم پی اے با خبر ہوتا تو بھونچال لا دیتا ۔ اس معصوم کو قوم کا درد رکھنے والے اپنی بیٹی سمجھتے تو خاموش کبھی نہ بیٹھتے ۔ اور قاتل کے ہاتھ قتل سے پہلے کئی بار کانپتے ۔ اگر دیکھا جائے تو اس معصوم کے قتل میں چند ہوس پرستوں کے علاوہ پورا معاشرہ قاتل ہے ۔ ہر وہ شخص قاتل ہے تو اسلام کو چھوڑ کر دوسرے قوانین کا حامی ہے ۔ ہمارا قانون قاتل ہے جو مجرم کو بچانے میں معاونت کرتا ہے ۔ ہمارے وکیل شامل ہیں جو چند کوڑیوں کے بدلے قاتلوں کو جانتے ہوئے بھی بچا لیتے ہیں ۔ اسلام کی سزاوں کو نامناسب کہنے والے قاتل ہیں ۔ مولوی قاتل ہے جس نے کردار سازی سے ہٹ کر مسلک سازی کو موضوع بنا رکھا ہے ۔ میڈیا قاتل ہے جو برائی کے راستے ہموار کرتا ہے ۔ قتل کا اصل کردار عبرت ناک سزا سے بچ گیا تو ہم سب قاتل ہیں ۔
اگر پھانسی پہ لٹک گیا تو باقی سب قاتلوں کو کیا سزا ملی ۔ ان تمام محرکات کو بھی تو کوئی سزا ملنی چاہئیے کہ ان سب کی بھی اصلاح ہو جائے ۔ یہ سزا معاشرہ تجویز کرے ۔ معاشرہ سدھارنے کا جھنڈا ہم سب کو اٹھانا ہو گا ۔ وگرنہ اگلے سانحہ کے قاتل ہم سب ہونگے ۔ ان محرکات کو روکنا ہوگا ، جن کیوجہ سے معاشرہ درندگی کیطرف جا رہا ہے ۔ ایسے وکیل کو سزا ملنا چاہئے جو ایسے مجرموں کو بچا لیتے ہیں ۔ ایسے جج کو سزا ملنی چاہئیے جو اپنے صوابدیدی اختیارات کو مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے پہ استعمال نہیں کرتے ۔ امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے مطابق حاکم وقت کو سزا ملنی چاہئے ۔
ہر بیٹی کو تحفظ دینا ہم سب کا فرض ہے ۔ اگر ایسا نہیں تو ہر قتل کے ہم سب قاتل ہیں ۔
ازاد ھاشمی
Thursday, 11 January 2018
زینب کے قاتل
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment