Thursday, 11 January 2018

مذمت اور اپیل

" مذمت اور اپیل "
یہ وہ دو لفظ ہیں ، جو اکثر پڑھنے اور سننے کو ملتے ہیں ۔ بڑے  سے بڑا سانحہ ہو جائے ، سیاستدان ، سماجی رہنماء اور اقتدار والے بہت زور شور سے مذمت کرتے ہیں ۔ اور یقین کر لیتے ہیں کہ اس لفظ " مذمت " سے ہم نے اپنا اپنا فرض ادا کر دیا ۔ مذمت ایک ایسی تسلی ہے اور ایسا دھوکہ ہے ، جو ہم دوسروں کو دیتے ہیں ۔ حالانکہ یہ وہ دھوکہ ہے جو ہم خود کو دے رہے ہوتے ہیں ۔ مگر نہیں جانتے ۔ برائی مذمت سے نہیں اسکی جڑ کاٹنے سے ختم ہوتی ہے ۔ افسوس ، دکھ اور ہمدردی کا احساس انسان کی اندرونی کیفیت  ہے ۔ مذمت اس احساس کو سلانے کی لوری ہے ۔ اس منافقت کو معاشرے کی روایت نہیں بننا چاہئیے تھا مگر ہمارے حقوق کی بے شعوری نے اسے قبول کرلیا ۔ حقوق کا تقاضا اس " مذمت " کے لفظ سے ملتوی ہو جاتا ہے اور پھر وقت کے ساتھ ساتھ یادداشتوں سے محو ہو جاتا ہے ۔ ہمارے وطن میں کتنے سانحات ہوئے اور کتنے مذمتی بیان آئے ۔ کیا اس سے کوئی عملی تبدیلی ہوئی ۔ مذمت وہ لوک کرتے ہیں ، جن کو تدارک کرنا ہوتا ہے ۔
دوسرا لفظ " اپیل  " ہے ۔ اپیل کو اسکے سیاق و سباق میں " بھیک " کہا جائے تو شاید موزوں ترین مطلب ہے اس لفظ کا ۔ ہم طاقتور کے سامنے اپنے حق کی اپیل کرتے ہیں ۔ جو پبلک سرونٹ ہوتے ہیں ، جن کو ہم تنخواہ دیتے ہیں ہم ان سے اپیل کرتے ہیں ۔ جو فرض ایک سرونٹ کی ذمہ داری تھی اس کو بھیک کیطرح مانگتے ہیں ۔ ہم اسے اسکی مہربانی بنا ڈالتے ہیں ۔ جج کی ڈیوٹی ہے کہ انصاف کرے اور اگر اس کے انصاف میں کوتاہی کا عنصر محسوس ہو ، تو ہمارا حق ہے کہ اسے باور کرائیں اور اسکا فرض ہے کہ اسے دیکھے ۔ اگر وہ نہ دیکھے تو اس سے اوپر والے درجے میں شکایت کریں  اپیل نہیں ، اور اپنا حق لیں ۔ " اپیل " لفظ نے حاکم اور محکوم کی حدیں قائم کر رکھی ہیں ۔ یہ بظاہر غیر اہم سی بات بن چکی ہے جبکہ اس نے ہمارے  ذہن غلام بنا دئیے ہیں ۔ کوئی  بھی دانشور میرےاس تخیل کی اصلاح فرما سکتا ہے ۔  بہت شکریہ
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment