" اہل فکر و تدبر کے نام "
ہر معاشرے کے اصل معمار ، سیاستدان نہیں ہوا کرتے ۔ اہل علم و دانش ہوتے ہیں ۔ معاشرے کی اساس واحد وہ چیز ہے جو ہم اگلی نسل کو دیتے ہیں ۔ سیاسی قلابازیاں اور اقتدار کی جنگ ہر دور میں بدلتی رہتی ہیں ۔ اہل علم و دانش کسی بھی تہذہب کا رخ بدلتے ہیں ۔ لمحہ فکریہ ہے کہ سیاست کے میدان جو بیہودگی روایت بن رہی ہے ۔ اگر یہ اسی شدت سے بڑھتی رہی تو آنے والا معاشرہ کیسا ہو گا ۔ کیا ایسے معاشرے میں ہماری نسلیں کسی تہذیب سے اگاہ بھی رہ پائیں گے کہ نہیں ۔ میری نظر میں میڈیا پر بیٹھے لوگ قطعی علم و دانش والے نظر نہیں آتے ۔ یہ سب خوشامدی لوگ ہیں ، اپنی اپنی جیب کی فکر میں لگے بیٹھے ہیں ۔ نیلام گھر میں سجے یہ لوگ اسی کی جیب میں چلے جاتے ہیں ، جو زیادہ بولی لگاتا ہے ۔ یہ بازاری انداز فکر انہی میڈیا کے دانشوروں کی دین ہے ۔ اساتذہ اور علماء ، دو طبقے ہیں جو معاشرے کی تہذیب اور سوچ کو موڑتے ۔ یا پھر کوئی مسیحا آ کر انداز فکر تبدیل کرتا ہے ۔ ہمارے اساتذہ ، شریف النفس لوگ ہوتے ہیں اور اکثر بیہودگی سے کنارہ کش رہتے ہیں ۔ مگر اب ضرورت ہے کہ اساتذہ آگے بڑھیں اور زمام سیاست کا رخ بدلنے میں اپنا کردار ادا کریں ۔ وگرنہ علم کو جہالت کا زنگ کھا جائے گا ۔ علماء نے اگر مسالک کی لاٹھیاں اٹھائے رکھیں تو یہ راستہ بھی بے سود ہو جائے گا ۔ لکھاریوں سے بھی کچھ توقعات ہوا کرتی ہیں ، تاریخ میں اس طبقے کا بہت اہم اور مثبت کردار نظر آتا ہے ۔ بد قسمتی سے جو سچ لکھتا ہے ، جبر کی زبان اسکی قلم توڑ دیتی ہے ۔
اگر یہ تینوں طبقے خاموش رہے تو یہ بھی اتنے ہی مجرم ہونگے ، جتنے آج کے سیاستدان ۔ مجرم اس نسل کے نہیں ، بلکہ آنے والی نسلوں کے ۔ اپنا شعور قوم کو منتقل کرو ۔
ازاد ھاشمی
Thursday, 11 January 2018
اہل فکروتدبر کے نام
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment