" کوڑے پہ لاش پڑی ہے "
اقتدار کے بھوکے سیاستدانوں ، میڈیا پہ انسانیت کا سبق پڑھانے والے دانشورو ، ضمیر بیچنے والے صحافیو ، دین سکھانے والے ملاو ، جہاد کرنے والے مجاہدو ، قانون سے کھیلنے والے وکیلو ، عدالتوں کے مالک ججو ، ملک کی حفاظت کا حلف اٹھانے والے جرنیلو ، ذرے ذرے کی خبر رکھنے والی ایجنسیو اور سڑکوں پہ سیاستدانوں کی چاپلوسی کرنے والے عوام !! سب غور سے سنو ، غور سے دیکھو اور اچھی طرح جان لو کہ ایک چیختے چلاتے ہوئے موت کے منہ میں جانے والی سات سال کی بچی ، چہرے پہ کرب سجائے اور خون میں لتھڑے کپڑوں میں ایک لاش کوڑے کے ڈھیر پر پڑی ہے ۔ اسکی شکل تم سب کی ، ہم سب کی بیٹیوں سے ملتی ہے ۔ یہ ایک معصوم بیٹی ہے ایسے معاشرے کی ، جسے مسلمان معاشرہ کہا جاتا ہے ۔ جہاں قران پڑھا جاتا ہے ، حدیثیں سنائی جاتی ہیں ۔ جہاں لمبے لمبے خطبے دئیے جاتے ہیں ۔ جہاں عوام قانون سازوں کو کروڑوں روپے کی مراعات مہیا کرتے ہیں ۔
یہ زینب کی لاش نہیں ، ہم سب کی بے حسی کا نوحہ ہے ۔ قومی حمیت کا جنازہ ہے ، ہم سب کی غیرت کا لاشہ ہے ۔ اگر اس سے پہلے لٹنے والی عزتوں پر سزا دی ہوتی ہے تو آج ایسی بے بس لاش کوڑے پہ نہ ہوتی ۔
سوچو اور اٹھو سب بیٹیوں کیلئے ۔ ایک لکیر کھینچنا ہو گی کہ پھر کبھی ایسا نہیں ہو گا ۔ اگر ہم زندہ قوم ہیں ۔
ازاد ھاشمی
Thursday, 11 January 2018
کوڑے پہ لاش پڑی ہے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment