" قران اور کہانیاں "
اللہ پاک نے حضرت موسیؑ پر تورات نازل فرمائی ، جو مختصر احکامات تھے ، حضرت داود ؑ پر زبور نازل کی چند احکامات اور طرز حکومت کے معاملات ، حضرت عیسی ؑ پر انجیل نازل ہوئی تو یہود کی سرکشی اور امت کی رہنمائی کہ راہ راست اختیار کر لیا جائے ۔ عیسائیت کی دانشوروں نے انجیل ، زبور اور تورات کے احکامات میں سے چیدہ چیدہ احکامات اور ہدایات منتخب کئے " بائیبل " کا نام دیا ۔ بے شمار معاملات پر مواد جمع کیا ، تاریخ کے واقعات کو بھی ، سائینسی تحقیق کو بھی اسی بائیبل کا حصہ بنا ڈالا ۔ آج کوئی پادری ، کوئی یہودی وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ انکے رسولوں پر نازل ہونے والی کون کونسی سطر اصلی ہے اور کون کون سی شامل کی گئی ۔ حکمت اور دانائی کا جتنا بھی مواد شامل کیا گیا ، سب انسانی ذہن کی اختراع ، سوچ اور تحقیق ہے ۔
قران پاک میں تمام ایسے واقعات ، جن کی تفصیل درکار نہیں تھی ، اللہ کی ذات نے انتہائی اختصار سے نازل فرمائے ۔ ایک ایک لفظ میں ، ایک ایک آیت میں حکمت اور دانائی ہے ۔ اب ہمارے علماء نے قصے اور کہانیوں کو موضوع بنا لیا اور حکمت کیطرف توجہ ہی نہیں کی ۔ لاکھوں احادیث پر مبنی کتابیں ، قصص القران کی کتابیں ، فقہ ، فلسفہ ، منطق اور تفاسیر کا لا متناہی سلسلہ جاری ہے ۔ قران میں تحریف تو ممکن نہ ہو سکی ، مگر کہانیوں اور روایات کو اتنا فروغ دیا گیا کہ قران کی حکمت کی طرف نظر ہی نہیں جانے دی گئی ۔ یہ سوچنے کا وقت ہی باقی نہیں بچتا کہ قران کے نزول کا اصل مقصد کیا تھا ۔ اگر ہم نے قران کے تدبر سے یونہی پہلو تہی رکھی تو اسلام صرف مسالک کا نام بن کر رہ جائے گا ۔
ازاد ھاشمی
Thursday, 11 January 2018
قران اور کہانیاں
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment