" ہر خوف کا علاج "
خوف ایک ایسی علامت ہے , جو اللہ سے ہو تو ایمان کی علامت . جو غیر اللہ سے ہو تو اللہ کی پکڑ کی نشانی ہے . جو بھی انسان اللہ کے خوف سے نا آشنا ہو جاتا ہے , اسکا دل اور دماغ حرص کے ساتھ ساتھ شیطنت کی طرف مائل ہو جاتے ہیں . پوری فرعونیت کے باوجود ایک انجانا سا خوف اسے گھیرنے لگتا ہے . آج مسلمان اسی خوف کا شکار ہیں . انسانوں کا خوف ، افلاس کا ڈر ، ناگہانی آفات کا لرزہ اور ایسے ہی بیشمار خوف زندگی کی تمام مسرتوں اور رنگینیوں کو چاٹ گئے ہیں ۔ مسلمان جہاں جہاں بھی ہیں ، خوف کے سائے ساتھ ساتھ ہیں ۔ ہم ہزار حل ڈھونڈھنے نکلیں ، کوئی حل نظر نہیں آ رہا ۔ کیوں ۔
اسکی صرف ایک وجہ ہے کہ ہم نے ہر میدان میں اللہ سے مخالفت کی ٹھان رکھی ہے ۔ اللہ کی ربوبیت سے دنیا کے فرعونوں کو اہمیت دے دی ہے ۔ جس جس فعل میں بھلائی تھی ، سکون تھا ، اللہ کی نصرت تھی سب چھوڑ دئیے ۔ اللہ پر توکل چھوڑ کر اپنی اپنی طاقت کے زعم میں مبتلا ہو گئے ۔ جس کی ذات سے مانگنا تھا اسے فراموش کر دیا اور انسانوں کے آگے ہاتھ پھیلا دئیے ۔ جس ذات کی رضا درکار تھی ، اس کے سامنے جانے سے احتراز کیا اور بندوں کی رضا میں لگ گئے ۔ اللہ نے دلوں سے اطمینان چھین لیا ، اب ہر چیز سے خوف آنے لگا ہے ۔ موت کا وقت معین ہے ، نہ ایک ثانیہ آگے نہ پیچھے ، رزق کی حد مقرر ہے ، جہاں بھی ہو گے ملے گا ۔ ہم نے موت سے چھپنا شروع کیا اور رزق کے فکر میں پاگل ہو گئے ۔ یہ سب اللہ پہ بھروسہ نہ ہونے کے خوف ہیں ۔
اگر اللہ کی بات سن لی جاتی تو نہایت آسان حل ہے ۔ کہ جب بھی کوئی دشواری آئے ، جب کوئی خوف مسلط ہو ، جب بھی انسانی ذہن وسوسوں کا شکار بنے تو حکم ربی ہے ۔
" نماز اور صبر کو وسیلہ بنا لو "
ازاد ھاشمی
Thursday, 11 January 2018
ہر خوف کا علاج
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment