" رحمٰن کی نعمتیں ( ٢ )"
سورہ الرحمٰن میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے انسانوں پر کی جانے والی دوسری نعمت کا ذکر فرمایا ہے ۔
" انسان کو پیدا کیا اور اسے اپنا ما فی الضمیر کہنے کا علم دیا ۔ اسے بات کرنا سکھایا "
انسان کی تخلیق اور اسے اشرف المخلوقات کے درجے پہ بٹھا دینا ، اللہ کا عظیم احسان ہے ۔ انسان کی تخلیق ایک مکمل ضابطہ تقویم پر کی ۔ وہ تمام خوبیاں ایک ساتھ دے دیں ، جو کسی بھی دوسری مخلوق کو ایک ساتھ نہیں دیں گئیں ۔ یہ احسان ہے کہ ہم انسان پیدا ہوئے ، اگر وہ ہمیں کسی بھی دوسری مخلوق میں پیدا کر دیتا تو یقینی طور پر ہم اشرف المخلوقات کی درجے سے محروم ہو جاتے ۔ پھر فرمایا کہ ہم پر ایک اور احسان فرمایا کہ ہمیں بولنا سکھایا ۔ بولنے سے مراد اگر آواز نکالنا ہے تو یہ خوبی ہر ذی روح میں ہے ۔ مگر ہمیں بیان کرنے ، اپنا مافی الضمیر کہنے اور اپنی بات کا مفہوم سمجھانے کی خوبی ملی ۔ اپنے جذبات و احساسات کو کہنے میں جو آسانی حضرت انسان کو نصیب ہوئی وہ کسی دوسری مخلوق کو حاصل نہیں ہے ۔ کیا ہمارے فرائض میں شامل نہیں ہو جاتا کہ جس " رحمٰن " نے یہ احسان کیا ہے ، ہم اسکی حمد و ثناء کر کے اس کا شکر کریں ۔ ہم وہ کہیں جو، وہ ہم سے سننا چاہتا ہے ۔ اور جو سن کر وہ راضی ہوتا ہے ۔
مگر ہم نے اللہ کے اس احسان اور نعمت کو ، دوسروں کی تضحیک ، بد گوئی اور بدکلامی ، انسانوں کی دل آزاری اور انسانوں کو نقصان پہنچانے کیلئے استعمال کر کے ، اللہ کے احسان سے سرکشی کر رکھی ہے ۔
اگر ہم ایسی گفتگو کریں ، جو دوسروں کو خوشی نصیب کرے تو ہمارے اشرف المخلوقات ہونے کا حق بھی ادا ہو گا اور اللہ کے احسان کا شکر بھی ۔
آزاد ھاشمی
٢٩ جولائی ٢٠١٨
Thursday, 2 August 2018
رحمنٰ کی نعمتیں 2
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment