" صرف ایک راستہ "
اسوقت جو سیاسی ناکامی کا سامنا مذہبی اتحاد والی جماعتوں کو ہے ، شاید کسی دوسری پارٹی کو نہیں ۔ جماعت اسلامی بالخصوص اس نہج پہ آگئی ہے جہاں اسکی ساری عزت اور توقیر بھی داو پہ لگ گئی ہے ۔ جس جماعت کے امیر کیلئے ہمیشہ عزت اور احترام ہی رہا ، اب اسکے امیر کو " امیر المنافقین " جیسے القاب ملنے لگے ہیں ۔ ان مذہبی جماعتوں کے اکابرین کیلئے لمحہ فکریہ ہے کہ لوگ اس حد تک کیوں پہنچ گئے ہیں ۔ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ انکے پاس کوئی ایسا پیغام ہی نہیں ، جو مذہبی ذہن رکھنے والی عوام کی دلچسپی کا باعث ہو ۔ جمہوریت کا راگ تو سب ہی الاپتے ہیں ۔ وہ مذہبی جبہ پہن کر الاپا جائے یا انگریزی لباس پہن کر ، بات ایک ہی ہے ۔ سیٹوں کی حرص میں ہر جائز ناجائز میں کود جانے کی عادت میں انکی پارسائی داغدار ہو گئی ہے ۔ جمہوریت اور اسلام دو متضاد نظریات ہیں ۔ یہ مذہبی سیاستدان پوری تعدی سے دونوں کو جوڑنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں ۔ کبھی اقبال کے اشعار سے اور کبھی خلفاء کے طرز سے ثابت کرنے کی بے سود سعی میں لگے رہتے ہیں ۔ عوام اس پر یقین کر چکی ہے کہ یہ لوگ اسلام کے نام پر دھوکہ دہی کر رہے ہیں ۔ اندر سے صرف اقتدار پرست ہیں ۔ اسلام اور اسلامی نظام سے انکا کوئی لینا دینا نہیں ۔ اس خیال کو یوں بھی تقویت ملتی ہے کہ اسمبلیوں میں بیٹھ کر اسلام کیلئے نہ کوئی بل لائے اور نہ کوئی آواز بلند کی ۔ عوام بھی بد دل ہوگئی اور اللہ سبحانہ تعالیٰ بھی راضی نہیں ۔
اب صرف ایک راستہ باقی بچا ہے کہ یہ جمہوریت کی کشتی سے نیچے اتر آئیں ۔ قوم کو اس طرف بلائیں کہ پہلے یہ فیصلہ ہو جائے کہ قوم اسلامی نظام چاہتی ہے یا جمہوریت ؟ اسکے لئے آئیندہ انتخابات سے پہلے ریفرنڈم کروا لیا جائے ۔
" جمہوریت یا نظام اسلام "
اور اگلی حکومت اسی ریفرنڈم کے حوالے سے بنانے پر حتمی رائے قائم کر لی جائے ۔
مجھے یقین واثق ہے کہ عوام کی اکثریت " اسلامی نظام " کے حق میں ہوگی ۔ پھر جو اسلام کی شرائط پہ پورا اترے گا ، وہ سربراہ مملکت بن جائے گا ۔ نہ انتخابات کا جھنجھٹ ، نہ ملکی وسائل کا ضیاع ، نہ قومی وحدت پر خدشات ۔
یہی آخری راستہ باقی بچا ہے ، جو پاکستان کا اساسی نظریہ بھی پورا کرے گا اور اسلام کیطرف عائد ذمہ داریاں بھی ۔ یہ شکایت بھی باقی نہیں رہے گی کہ " خلائی مخلوق " یا " غیبی ہاتھ " حکومت سازی کرتے ہیں ۔ موجودہ بے ہنگم سیاسی رحجان میں
" خلائی مخلوق " کے کردار کی اشد ضرورت ہے ۔ کیونکہ ہر طرف کرسی پر یلغار ہے ۔ ملک لوٹنے کا اس سے بہتر کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے ۔ جس وجہ سے ہر حریص ، اخلاقی ، قانونی حدود سے تجاوز کو اپنا حق سمجھتا ہے ۔ چور کو اکثریت کی " آشیر باد " مل جاتی ہے ، وہ ایماندار بن بیٹھتا ہے ۔ ملک روز بروز پستی کیطرف بڑھ رہا ہے ۔ قرضے لئے جاتے ہیں اور قومی وسائل پر توجہ نہیں دی جاتی ۔ ملکی وسائل ، ٹیکس اور دیگر آمدن حکمرانوں کی عیاشیوں کی نظر ہو جاتے ہیں ۔ غیر ملکی کمپنیوں کو کک بیک لیکر ٹھیکے دے دئیے جاتے ہیں ۔ گویا ملک کو ہر طرف سے نوچا جاتا ہے ۔ کوئی طاقت نہیں جو اسے روک سکے ۔ صرف اسلامی نظام ہے جو اس لوٹ مار کے سامنے رکاوٹ ہے ۔ قوم کو یہ اگاہی دینے کا کام ان مذہبی سیاستدانوں کا تھا ۔ جو وہ کر بھی نہیں سکے ، کرنا بھی نہیں چاہتے اور کرنے کی کوشش سے بھی گریزاں ہیں ۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ لوگوں نے اٹھا کر اسمبلیوں سے باہر پھینک دیا ۔
آزاد ھاشمی
٣٠ جولائی ٢٠١٨
Monday, 30 July 2018
صرف ایک راستہ
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment