Sunday, 29 July 2018

ابھی اور رسوائی باقی ہے

" ابھی اور رسوائی باقی ہے؟ "
مولانا فضل الرحمٰن کے جلو میں کھڑے ، اسفند یار ولی ، اچکزئی ، سراج الحق اور شیر پاو وغیرہ صاحبان کی تصویر دیکھنے سے احساس ہوا کہ اللہ کی پکڑ کا بھی کیا نرالا انداز ہے ۔ انتخابات کی ناکامی کا جو صدمہ اور جھکی ہوئی نظروں سے جو ندامت نظر آ رہی تھی ۔ اگر وہ خاموشی سے گھروں میں بیٹھ کر رو لیتے تو کم از کم میرے جیسے کروڑوں انکی ہزیمت کا تماشا نہ دیکھتے ۔ انکا وقار باقی رہ جاتا ۔ اقتدار کی ہوس کا اثر پوشیدہ رہتا ۔
مگر جب اللہ چاہتا ہے کہ کسی کو رسوا کرے تو وہ اپنے گلے میں خود ڈھول ڈال لیتا ہے ۔ تاکہ اسکی رسوائی زمانہ دیکھے ۔ یہی حال ان شکست خوردہ سیاستدانوں کا نظر آ رہا ہے ۔
کسقدر بے حیائی ہے کہ مذہب کے پرچار کرنے والے یہ ملا ، کھلے عام اعلان کرتے ہیں کہ ہم حکومت بننے سے پہلے حکومت گرا دیں گے ۔ اتنا غرور ، اتنا زعم ، اتنی اکڑ کہ جسے اللہ عزت دے اسکی عزت کو سبوتاژ کرنے کا اعلان کرتے پھریں ۔ اتنی بے حسی کہ ملک کے استحکام کو اپنی انا پر قربان کرنے کیلئے اعلان جنگ کر دیا جائے ۔ کتنا اچھا ہوتا ، شکست کو تسلیم کر کے ملکی مفاد کی خاطر مصالحانہ رویہ اختیار کر لیا جاتا ۔ جیتنے والے کی غلطی کا انتظار کیا جاتا ، اسکی اصلاح کی کوشش کی جاتی ۔ اور اگر وہ اپنے عہد و پیما سے انحراف کرتا تو قوم کو بتایا جاتا ۔ اسکا راستہ روکا جاتا تو ایک عزت ملتی ۔ اب کون احمق ہو گا جو ان فساد پسند سیاسی لوگوں کے ساتھ کھڑا ہو گا ۔ لگتا ہے کہ اللہ چاہتا ہے ان کو ایسے ننگا کردے کہ قوم انکے چھپے ہوئے عیب بھی جان لے ۔ مجھے عمران خان سے سیاسی وابستگی بھی نہیں اور ہمدردی بھی نہیں ۔ مگر قومی مفاد کا تقاضا ہے کہ اسکی مثبت سوچ پر اسکا بھر پور ساتھ دیا جائے ۔ اسکی اصلاح پر پورے زور سے شور بھی کیا جائے اگر ضرورت پڑے ۔ تعجب ہے کہ جماعت اسلامی کے مدبرین بھی اسی اخلاقی پستی کے ساتھ کھڑے ہیں ۔
کیوں مزید ذلت رسوائی لینے کی کوشش میں ہو ۔ اب یہ تماشا دنیا دیکھے گی ، کیونکہ سیاسی طور پر اسوقت پوری دنیا کی نظریں پاکستان پر ہیں ۔
آزاد ھاشمی
٢٧ جولائی ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment