" چریا ہونا آسان نہیں "
چند کھلنڈرے نوجوان ، چوک میں بیٹھے ہر آنے جانے والے کو تنگ کر رہے تھے ۔ بڑھاپا اور جوانی دونوں ایک دوسرے سے اٹھکیلیاں کرتے رہیں تو زندگی میں ایک ترنگ باقی رہتی ہے ۔
" بابا جی ! آپ کو لوگ بابا چریا کیوں کہتے ہیں؟ " لڑکوں نے بابا چریا کو پاس بٹھاتے ہوئے شرارت کی ۔
" اب تو مجھے میری بیگم بھی چریا ہی کہتی ہے ۔ میرے پوتے پوتیاں بھی مجھے دیکھ کر ہنستے ہیں "
بابا جی نہایت ظرافت سے جواب دیا
" اسکا مطلب ہے کہ اب تصدیق بھی ہوگئی ہے " لڑکوں نے پھر چوٹ کی ۔
" چریا ہونے میں بہت ریاضت کرنا پڑتی ہے ۔ من کو مارنا پڑتا ہے ۔ بہت مشکل کام ہے بہت مشکل "
بابا جی کی بات سن کر سب ایک دوسرے کو دیکھنے لگے ۔ انکی آنکھوں کے اشارے بتا رہے تھے کہ بابا جی واقعی "چریا "ہو چکے ہیں ۔
" اللہ کا حکم ہے کہ "ورکعو مع الراکعین " جھکنے والوں کے ساتھ جھکو ۔ " واقیمو الصلوة" نماز قائم کرو ۔ میں چریا ہوں ھاتھ کھول کر نماز پڑھنے والوں کے ساتھ کھول لیتا ہوں ، باندھنے والوں کے ساتھ باندھ لیتا ہوں ۔ اسلئے فرقوں میں بٹے لوگ " چریا " کہتے ہیں "
بابا جی نے توقف کے بعد پھر بولنا شروع کیا
" دل کی نہیں مانتا ہوں دماغ کی مانتا ہوں ۔ دماغ کیوجہ سے انسان اشرف المخلوقات ہے ، دل تمناوں اور خواہشات کو جنم دیتا ہے ۔ شیطان جلدی سے یہاں بس جاتا ہے ۔ سب خرابیاں دل کی ماننے سے ہوتی ہیں ۔ اسلئے چریا ہوں "
" میں دفتر میں افسر تھا ، میرے دفتر میں پیسے برستے تھے ۔ سب اکٹھے کرتے تھے ۔ میں بچ بچ کر گذرتا رہا ۔ سب کے بڑے بڑے گھر بن گئے ، میری کوٹھڑی ہی رہی ۔ سب کاروں میں دفتر آتے تھے ، میں سائیکل پہ ۔ سارے " چریا " کہتے تھے "
بابا جی کے چہرے کا اطمینان دیدنی تھا ۔ نوجوان الجھ گئے کہ کسے چھیڑ بیٹھے ہیں ۔
" بیٹا ! چریا بن جانے میں جو راحت ہے ، اگر تم لوگوں کو اسکا ذائقہ معلوم ہو جائے تو پھر کبھی خواہشات کی غلامی نہیں کرو گے ۔ جب لوگ مجھے چریا کہتے ہیں ،ایسے لگتا ہے کہ میری زندگی کی ریاضت قبول ہوگئی ۔ "
" اس پورے شہر میں کتنے چریا ہیں ؟ کوئی نہیں ۔ سب دانا ہیں ۔ سب نے دنیا کا مال اکٹھا کیا ۔ سب کا مال انکے کام آنے والا نہیں ۔ مگر اصل احمق یہی ہیں ، جن کو پتہ ہی نہیں کہ دنیا میں جو کمایا یہاں ہی رہ جائے گا ۔ کتنے اگلے گھر کی فکر میں ہیں ؟ اس پورے شہر میں ، صرف میں ایک " بابا چریا " ہوں ۔ ہے نا اعزاز کی بات "
بابا جی اٹھے اور مسکراتے ہوئے چل دئیے ۔ نوجوان بت بنے بابا چریا کو دیکھتے رہے ۔
آزاد ھاشمی
٢ اگست ٢٠١٨
Thursday, 2 August 2018
چریا ہونا آسان نہیں
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment