Thursday, 2 August 2018

میراثی نہیں دانشور

" میراثی نہیں دانشور  "
پرانے زمانے میں ہر گاوں میں ایک میراثی ہوا کرتا تھا ۔ وہ چوہدری کی تعریف ، میں ایسا رنگ بھر دیا کرتا تھا کہ چوہدری کو کبھی کبھی انعام میں اپنی عزیز ترین گائے بھینس بھی دینی پڑ جاتی تھی ۔ اسکی تعریف کا انداز نہ صرف چوہدری کی ذات اور اولاد ہوتا تھا ۔ بلکہ وہ اسکے کتے کی تعریف میں بھی کمال کر دیا کرتا تھا ۔ اب ہماری پوری قوم اس میراثی کو بہت پیچھے چھوڑ آئی ہے ۔ تعریف اور خوشامد میں فرق ہی بھول گیا ہے ۔ تعریف اس خوبی کی ہوتی ہے جو کسی میں موجود ہو ۔ اور جس خوبی کا دور دور تک وجود نہ ہو ، اس پر قصیدے پڑھنا خوشامد ہوتا ہے ۔ با شعور لوگ کسی کی تعریف کرنے میں کنجوسی بھی نہیں کرتے اور خوشامدی بھی نہیں ہوتے ۔ عمران خان کا ماضی بہت بہتر رہا ہے ، مگر جو چیلنج اس نے لیا ہے ، اسکے کیا نتائج نکلیں گے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے ۔ اللہ کرے کہ جو وہ کہہ رہا ، وہ کر گذرے ۔ قوم کو اسکا حوصلہ اور اعتماد بننا چاہئیے ، مگر ایسا بھی نہ ہو کہ گذشتہ حکمرانوں کیطرح قوم کے پیسے کو اپنا ذاتی حق بنا بیٹھے ۔ ایسا بھی نہ ہو کہ معاشرہ اپنی مذہبی روایات کھو بیٹھے ۔ اقتدار پر وہی سجتا ہے جس میں بردباری ہو ، عاجزی  اور انکسار ہو ، ذاتی عناد سے دور رہے ، سب کو ایک آنکھ سے دیکھے ، درگذر کرے ، عدل میں سب کو برابر رکھے ۔ یہ سب مشکل اور بڑے دل گردے کے کام ہیں ۔ اقتدار کی کرسی پہ جب " میں " آ جاتی ہے تو ساری خوبیاں غارت ہو جاتی ہیں ۔ قوم کو خوشامدانہ رویہ ترک کرنا ہو گا ۔ وگرنہ نواز شریف کیطرح بادشاہ بننے میں دیر نہیں لگے گی ۔ زرداری کیطرح " اسکی کیا مجال ہے کہ مجھے عدالت میں بلائے " کہنے میں بھی تردد نہیں ہوگا ۔ حسن ظن کا تقاضا ہے کہ موصوف سے اچھی امید رکھی جائے ۔ مگر میراثی بن کر نہیں ۔ دانشور بن کر ۔
آزاد ھاشمی
٢ اگست ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment