Tuesday, 24 July 2018

پیسہ کس کا ہے

" پیسہ کس کا ہے  "
" بابا جی ! طبیعت بہت خراب ہے ۔ بیماری نے توڑ کر رکھ دیا ہے "
بخار کی طپش اور چہرے کی سرخی بتا رہی تھی کہ نوجوان بیماری کے شدید حملے کا شکار ہے ۔
" غربت کا عذاب کیا کم تھا کہ بیماری کا تحفہ بھی مل گیا "
نوجوان نے سٹول پر بیٹھتے ہوئے ایک اور شکایت کر دی ۔ بابا جی نے آگے بڑھ کے پانی کا گلاس دیا ۔
" دیکھا نا بابا جی ۔ مقدر بھی کیا چیز ہے ۔ پانی بھی ملا تو گرم "
نوجوان نے گلاس منہ کو لگایا ۔ ایک گھونٹ لیا اور رکھ دیا ۔
" خودکشی حرام نہ ہوتی اور بچوں کا خیال نہ ہوتا تو میں ایک گھونٹ زہر پی کر ہمیشہ کیلئے سو جاتا " نوجوان نے گلو گیر آواز میں کہا ۔
" ڈاکٹر کے پاس جاو ، اسکی فیس ، دوائیوں کی فہرست اور پھل فروٹ کھانے کی ہدایت ، مزید بیمار کر دیتی ہے "
نوجوان بولے جا رہا تھا اور بابا جی سنے جا رہے تھے ۔ ایک کے بعد دوسری شکایت ۔ دونوں کی شناسائی پرانی معلوم ہو رہی تھی ۔
" حوصلہ کرو بیٹا ! دل چھوٹا نہیں کرتے ۔ یہ لو فروٹ لے لینا اور دوائی بھی ۔ بچوں کیلئے بھی کچھ لے جانا " بابا جی نے اپنا بٹوہ خالی کرتے ہوئے کہا ۔
" نہیں ، کبھی نہیں ۔ آپ کو اس عمر میں ان پیسوں کی زیادہ ضرورت ہے ، میرا کوئی سبب نکل آئے گا " نوجوان نے بابا جی کا ہاتھ روکتے ہوئے کہا تو بابا جی نے رونا شروع کردیا ۔
" تم نے مجھے غیر سمجھا بیٹا ۔ تم نے میرا بھرم توڑ دیا ۔ میں نے تمہیں اپنی اولاد کیطرح سمجھ کر یہ دینے چاہے ، تو نے میرا ہاتھ جھٹک دیا ۔ "
بابا جی کا وار کافی کاری تھا ۔
" نہیں بابا جی ، یہ وجہ نہیں ۔ آپ سارا دن محنت کرتے ہیں ، یہ چھوٹی سی جمع پونجی آپ کی کسی ضرورت کیلئے تھی ، جو آپ مجھے دے رہے ہیں ۔ کل کو آپ کو ضرورت پڑ گئی تو کیا ہو گا "
نوجوان کا استدلال بھی مضبوط تھا ۔
" بیٹا ! پیسہ کسی کا نہیں ہوتا ۔اس پر ہر ضرورت مند کا حق ہوتا ہے ۔ بھلے کسی کی جیب میں بھی ہو ۔ اگر ضرورت پہ کام نہ آئے تو یہی پیسہ آگ ہوتا ہے آگ ۔ جو خلوص ، محبت حتی کہ ایمان کو جلا کر راکھ کر دیتا ہے ۔ یہ شیطنت کیطرف بلانے لگتا ہے ۔ اور اگر کسی کی ضرورت پہ کام آ جائے تو پھلدار درخت بن جاتا ہے ۔ پھر اسکی ہر شاخ پر پھل لگتا ہے ۔ آج اسکی تجھے ضرورت ہے آج یہ تیرا ہے ۔ اسلئے لے لو "
زندگی کے تجربے ، انسان کو شعور دیتے ہیں ۔ ایک عمر رسیدہ شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ دوسرے کے ذہن کو کیسے قائل کرنا ہے ۔ بابا جی ، پکوڑے بنانے کے عمل سے دانش کے ایک خاص مقام پر تھے ۔ نوجوان کو انکی بات ماننا پڑی ۔ بابا جی کے چہرے کی بشاشت بتا رہی تھی کہ وہ اس جمع پونجی کو کسی کی ہتھیلی پر رکھ کر کسقدر خوش تھے ۔
آزاد ھاشمی
٢٤ جولائی ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment