Tuesday, 24 July 2018

لوٹے اور گدھے

" لوٹے اور گدھے  "
ہماری سیاسی زبان میں یہ دو لفظ بہت زیادہ استعمال ہوتے ہیں ۔ لوٹا اس سیاستدان کو کہا جاتا ہے جو چڑھتے سورج کی پوجا کرتا ہے اور ادھر  ہی مڑ جاتا ہے ، جدھر کی ہوا نظر آتی ہے ۔ گدھا بھی ایسے شخص کیلئے بولا جاتا ہے ، جو عقل و شعور سے پیدل ہو ۔
یہ لوٹے کی بھی توہین ہے اور گدھے کی بھی ۔ چونکہ دونوں احتجاج کرنا نہیں جانتے ، دونوں کو اپنا مافی الضمیر بیان کرنا نہیں آتا ، اسلئے تحقیر کا نشانہ بنتے ہیں ۔ لوٹا ، انسان کی طہارت کے کام آتا ہے ، گندگی اور غلاظت کا دشمن ہوتا ہے ۔ مگر جن سیاستدانوں کیلئے یہ استعارہ استعمال کیا جاتا ، وہ گندگی دور نہیں کرتے بلکہ گندگی پھیلاتے ہیں ۔ جس شخص کا ایمان ، دین اور کردار اتنا گرا ہوا ہو کہ اقتدار کیلئے کوئی بھی گندگی اپنے چہرے پہ مل لے ، اس لوٹا کہنا کسی طور درست نہیں ۔ اسے غلاظت کہنا زیادہ موزوں لفظ ہے ۔ اب ان لوٹوں کو غلاظت کے رنگ میں دیکھیں تو سیاست میں غلاظت ہی غلاظت نظر آئے گی ۔ شاید کوئی سیاستدان ہو گا جو سیٹ کے حصول کیلئے نظریات نہ بیچتا ہو ۔ سیٹ ایڈجسٹمنٹ بھی اسی ضمن میں آتا ہے ۔ رہ گیا گدھا ، تو جو دوسروں کا بوجھ اپنی کمر پر لاد کر ہر وقت جتا رہے ۔ بھوکا اور پیاسا ، سوکھی گھاس پھونس کیلئے بھی اپنی ساری توانائیاں صرف کر دے ۔ اسے محض اس حکم براری پر بے شعور کہہ دیا جائے ، درست نہیں ۔ وہ انسان جو اپنے لالچ اور حرص میں غلط کو صحیح نہ کہہ سکے ۔ جسکا مطلب اور غرض اسکے فیصلوں پر حاوی ہو ، وہ گدھا نہیں ، کوئی دوسرا جانور ہو سکتا ہے ۔
اسے کیا نام دیا جائے ؟ آپ کی رائے اہم ہے ۔
آزاد ھاشمی
٢١ جولائی ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment