" پاکستان سیاسی جاگیر نہیں "
کچھ پیشہ ور سیاستدان ، کچھ بکاو دانشور اور کچھ عقل سے پیدل لوگ ، اپنی تمام تر توانائیاں اس بحث پر استعمال کر رہے ہیں کہ ملک کی اسٹیبلشمنٹ ، آئی ایس آئی ، فوج ، عدلیہ اور کچھ دیگر ادارے سیاستدانوں کو کام نہیں کرنے دیتے ۔ جیسے ہی کوئی ترقیاتی کام ہوتا ہے ، یہ سب درمیان میں کود پڑتے ہیں ۔ فوج پر الزام ہے کہ وہ سیاسی حکومتوں کو دباو میں رکھتے ہیں ۔ جب کوئی جمہوری عمل سے آنے والا سیاستدان انکی ہاں میں ہاں نہیں ملاتا تو اسکا اقتدار چھین لیا جاتا ہے ۔ یہ ایک مبہم قسم کی کبھی نہ ختم ہونے والی لا حاصل بحث ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ اسوقت جو تحریک چند اداروں کے خلاف چل رہی ہے ، اسکے پس منظر میں کیا مقاصد ہیں ۔ فوج ، عدلیہ ، بیوروکریسی اور پارلیمنٹ ، چار بنیادی ستون ہیں جن کا فعال ہونا اور ایک دوسرے سے بہتر روابط ہونا لازمی ہے ۔ ان میں سے کسی کے کردار کو بھی ساقط نہیں کیا جاسکتا ۔ فوج طاقت ہے جو دشمن کے سامنے کی مضبوط دیوار ہوتی ہے ۔ اگر یہ کہا جائے کہ فوج ملک کا سب سے اہم ادارہ ہے تو غلط نہیں ہوگا ۔ فوج کا ایک سپاہی اور ایک جرنیل ، ایک خاص اہلیت کا مالک ہوتا ہے ۔ جج اور بیوروکریٹ بھی کسی اہلیت کی بنیاد پر کرسی پہ بیٹھتے ہیں ۔ مگر سیاستدان حادثاتی ہوتے ہیں ۔ جھوٹی ڈگری والا سیاستدان ، کسی بھی وزارت کی کرسی پر بیٹھ سکتا ہے ۔ اسکی ساری کارکردگی اسی سیکرٹری کی مرہون ہوتی ہے ، جو اسے گائیڈ کر رہا ہوتا ہے ۔ ایسے سیاستدان ، اب عوام کی رائے کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں کہ فوج ، ایسٹیبلشمنٹ ، عدلیہ کو مفلوج کر دیا جائے ۔ اور انہیں دیوار کے ساتھ لگا دیا جائے تاکہ انکے راستے کی ہر رکاوٹ دور ہو جائے ۔ سیاستدان چاہتے ہیں کہ وہ مطلق العنان بادشاہ بن جائیں ۔ یہ وہ خواہش ہے جو میڈیا پر تحریک کی شکل اختیار کر چکی ہے ۔ ناعاقبت اندیش لوگ اسکی پذیرائی کرنے پر تلے بیٹھے ہیں ۔ اور سمجھ رہے ہیں کہ وہ راست اقدام پر ہیں ۔
اہل دانش کو ملک کے خلاف ہونے والی اس سازش پر باہر آنے کی ضرورت ہے ۔ اور سادہ لوح عوام کو شعور دینا ہوگا کہ فوج ، عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کا متحرک رہنا قومی مفاد میں ہے ۔ اور ان سب کو مزید مستعدی سے علی الاعلان میدان میں رہنا چاہئیے ۔ یہ ملک سیاستدان خانوادوں کی جاگیر نہیں ، ایک دستور کے تحت چلنے والا ملک ہے ۔ ہر ادارے کو اپنے فرائض کے راستے کی ہر رکاوٹ دور کرنے کا پورا حق ہے ۔
آزاد ھاشمی
٢٢ جولائی ٢٠١٨
Tuesday, 24 July 2018
پاکستان سیاسی جاگیر نہیں
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment